جوڑ توڑ جاری

*اسرائیل : کون حکومت بنائے گا؟ جوڑ توڑ جاری

تجزیہ : محمد اجمل خان سینئر جرنلسٹ

اسرائیل کے 27 اکتوبر 2026ء کے پارلیمانی انتخابات (26ویں کنسٹ) کے بعد کسی بھی ایک جماعت یا بلاک کو واضح اکثریت (120 میں سے 61 نشستیں) حاصل نہیں ہو سکی ہے، جس کی وجہ سے حکومت سازی کا معاملہ شدید سیاسی جوڑ توڑ کا شکار ہے۔
اسرائیلی سینٹرل الیکشن کمیٹی کے مطابق ابتدائی نتائج کے خدوخال یہ ہیں :
پارلیمانی نتائج اور نشستوں کی تقسیم
کنست (Knesset) کی 120 نشستوں کے لیے حاصل ہونے والی اہم نشستیں:
لیکوڈ Party (Likud): 27 نشستیں (بنیامین نیتن یاہو کی جماعت سب سے بڑی سنگل پارٹی بن کر ابھری ہے)۔
یاشار / اپوزیشن اتحاد (Yashar!): 21 نشستیں۔
بیخاد / اتحاد (Beyachad): 12 نشستیں۔
عرب مشترکہ لسٹ (The Joint List): 11 نشستیں۔
دی ڈیموکریٹس (The Democrats): 8 نشستیں۔
رعام (Ra’am): 8 نشستیں۔
اسرائیل بیتینو (Yisrael Beyteinu): 7 نشستیں۔
عوتسما یہودیت (Otzma Yehudit – بن گویر): 7 نشستیں۔
یو این ٹی جے / مذہبی جماعتیں (United Torah Judaism): 7 نشستیں۔
شاس (Shas): 6 نشستیں۔
ریلیجیس صیہونسٹ پارٹی (Smotrich): 6 نشستیں۔
بلاکس کی صورتحال (Block Breakdown)
نیتن یاہو کا دائیں بازو / مذہبی بلاک: لیکوڈ + شاس + یو ٹی جے + مذہبی صیہونیت + عوتسما یہودیت = اندازاً 53 نشستیں۔
اپوزیشن / سنٹر-لیفٹ بلاک: تقریباً 48 نشستیں۔
عرب جماعتیں: 19 نشستیں۔
نتیجہ: حکومت بنانے کے لیے ضروری 61 نشستوں کا جادوئی عدد کسی کے پاس بھی نہیں ہے۔
حکومت کون بنا سکتا ہے؟ (ممکنہ سناریوز)
نیتن یاہو کی دوبارہ کوشش: سب سے بڑی پارٹی (27 نشستیں) ہونے کی ناطے بنیامین نیتن یاہو کو پہلے حکومت سازی کا موقع ملنے کا قوی امکان ہے۔ تاہم، انہیں 61 کا ہندسہ پورا کرنے کے لیے ‘اسرائیل بیتینو’ (ایویگڈور لیبرمین) یا دیگر آزاد/سینٹرسٹ اراکین کو اپنے ساتھ ملانا پڑے گا، جو کہ شدید سیاسی اختلافات کی وجہ سے کافی مشکل امتحان ہے۔
اپوزیشن اور سینٹرسٹ اتحاد: اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں، تو مخالف بلاک (Yashar, Beyachad, Democrats وغیرہ) عرب جماعتوں اور اسرائیل بیتینو کے ساتھ مل کر ایک وسیع تر “مخالفِ نیتن یاہو اتحاد” تشکیل دینے کی کوشش کر سکتا ہے۔
قوم پرستی / وسیع تر مخلوط حکومت (Unity Government): اگر دونوں بڑی قوتیں 61 نشستیں پوری نہ کر سکیں، تو ملک کو سیاسی معطلی سے بچانے کے لیے لیکوڈ اور سینٹرسٹ جماعتوں کے درمیان ‘پاور شیئرنگ’ (باری باری وزراتِ عظمیٰ) کی قومی حکومت بن سکتی ہے۔
حتمی صورتحال: فی الحال اسرائیلی صدر کی جانب سے مختلف پارٹیوں سے مشاورت کا عمل جاری رہے گا جس کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ پہلے کس کو باضابطہ طور پر حکومت بنانے کی دعوت (Mandate) دی جاتی ہے۔
اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات (کنسٹ – Knesset) کے بعد صدر کی طرف سے حکومت سازی کا مینڈیٹ (Mandate) دینے کا عمل اسرائیل کے بنیادی قانون “بنیادی قانون: حکومت” (Basic Law: The Government) کے تحت طے شدہ ایک باقاعدہ قانونی اور آئینی طریقہ کار کے تحت ہوتا ہے।
یہاں اس کا مکمل قانونی طریقہ کار اور وہ بنیادی معیار درج ذیل ہیں جن کی روشنی میں صدر وزیراعظم کے امیدوار کا انتخاب کرتا ہے.
حکومت سازی کا فیصلہ کس بنیاد پر ہوتا ہے؟
اسرائیلی قانون کے مطابق صدر پر یہ پابندی نہیں ہے کہ وہ لازمی طور پر سب سے زیادہ نشستیں جیتنے والی پارٹی کے سربراہ کو ہی بلائے۔ صدر بنیادی طور پر ذیل کے دو اہم نکات دیکھتا ہے.
اراکینِ کنسٹ کی سفارشات (Recommendations): انتخابات کے نتائج آنے کے بعد صدر تمام جیتی ہوئی جماعتوں کے وفود سے الگ الگ ملاقات کرتا ہے۔ ہر جماعت صدر کے سامنے باقاعدہ نام تجویز کرتی ہے کہ وہ کس رکنِ کنسٹ کو وزیراعظم دیکھنا چاہتی ہے۔
61 نشستوں کی کثریت کی صلاحیت (Capability to reach 61 seats): کنسٹ کی کل 120 نشستیں ہوتی ہیں۔ صدر اس شخص کو مینڈیٹ سونپتا ہے جس کے پاس 61 یا اس سے زائد اراکین کا اتحاد (Coalition) قائم کرنے اور اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا سب سے زیادہ قوی امکان (Best Prospect) ہو۔
(مثال کے طور پر: 2009ء کے الیکشن میں کدیما پارٹی نے سب سے زیادہ 28 نشستیں جیتیں، لیکن بنیامین نیتن یاہو (لیکوڈ – 27 نشستیں) کے پاس دیگر جماعتوں کی زیادہ سفارشات تھیں، لہٰذا صدر نے نیتن یاہو کو حکومت سازی کا مینڈیٹ دیا تھا)۔
قانونی طریقہ کار اور مرحلہ وار ٹائم لائن (Step-by-Step Procedure)
مرحلہ 1: سرکاری نتائج اور مشاورتی عمل (7 دن)
انتخابات کے بعد جب سینٹرل الیکشن کمیٹی رسمی نتائج جاری کرتی ہے، تو قانون کے مطابق صدر کے پاس پارلیمنٹ میں پہنچی تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے مشورہ کرنے کے لیے 7 دن کا وقت ہوتا ہے۔
مرحلہ 2: پہلا مینڈیٹ (28 دن)
صدر منتخب رکنِ کنسٹ کو باقاعدہ “حکومت سازی کا مینڈیٹ” (Mandate) دیتا ہے۔
اس امیدوار کو مخلوط حکومت (Coalition Government) تشکیل دینے اور اتحادیوں کے ساتھ سیاسی و اقتصادی معاہدات طے کرنے کے لیے 28 دن دیے جاتے ہیں۔
مرحلہ 3: توسیع (14 دن)
اگر امیدوار 28 دنوں میں اتحادی پورٹ فولیو کا حتمی فیصلہ نہ کر سکے اور اسے مزید وقت درکار ہو، تو صدر کی صوابدید پر اسے اضافی 14 دن کی توسیع مل سکتی ہے (کل 42 دن)۔
اگر پہلا امیدوار ناکام ہو جائے تو کیا ہوتا ہے؟
اگر پہلا نامزد امیدوار 42 دنوں میں بھی حکومت بنانے میں ناکام رہے يا اپنا مینڈیٹ واپس کر دے.
دوسرا موقع (28 دن): صدر کے پاس 3 دن کا وقت ہوتا ہے کہ وہ کنسٹ کے کسی دوسرے رکن (MK) کو حکومت سازی کی دعوت دے۔ اس دوسرے شخص کے پاس بغیر کسی توسیع کے صرف 28 دن کا وقت ہوتا ہے۔
کنسٹ کا باہمی چناؤ (14 دن): اگر دوسرا امیدوار بھی ناکام ہو جائے، تو معاملہ براہِ راست پارلیمنٹ (کنسٹ) میں چلا جاتا ہے۔ کنسٹ کا کوئی بھی 61 اراکین پر مشتمل گروپ صدر کو تحریری طور پر کسی بھی تیسرے رکن کا نام دے سکتا ہے، جسے حکومت بنانے کے لیے 14 دن کا وقت دیا جاتا ہے۔
دوبارہ انتخابات (Snap Elections): اگر یہ تمام مرحلے ناکام ہو جائیں اور کوئی بھی شخص 61 اراکین کی حمایت ثابت نہ کر سکے، تو قانون کے مطابق کنسٹ خود بخود تحلیل ہو جاتی ہے اور ملک میں 90 دنوں کے اندر دوبارہ نئے عمومی انتخابات کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔
حتمی مرحلہ: کنسٹ کا اعتماد کا ووٹ (Investiture Vote)
جب نامزد وزیراعظم ایک مخلوط حکومت کا ڈھانچہ اور وزراء کے قلمدان فائنل کر لیتا ہے.
وہ پارلیمنٹ (کنسٹ) کے سامنے اپنے اتحادی معاہدات اور حکومتی منشور پیش کرتا ہے۔
کنسٹ میں اعتماد کا ووٹ (Vote of Confidence) کرایا جاتا ہے۔
اگر 120 میں سے سادہ اکثریت (کم از کم 61 اراکین) کے ذریعے اس کی تائید ہو جائے، تو نئی حکومت اور وزیراعظم باقاعدہ حلف اٹھا کر عہدہ سنبھال لیتے ہیں۔
اسرائیل کا نظامِ حکومت خالصتاً تناسبی نمائندگی (Proportional Representation) پر مبنی ہے۔ صدر کا کام سب سے بڑی پارٹی کو منتخب کرنا نہیں، بلکہ اراکینِ کنسٹ کی اکثریت کی سفارشات کی روشنی میں اس سیاستدان کا انتخاب کرنا ہوتا ہے جو 61 کی اکثریت کا اتحاد بنانے میں کامیاب ہو سکے۔
اسرائیل میں انتخابات کے بعد جب تک نئی باقاعدہ حکومت قائم نہیں ہو جاتی، اس درمیانی عرصے کے دوران موجودہ حکومت “نگران حکومت” (Transitional / Caretaker Government) کے طور پر کام کرتی ہے.
اسرائیلی آئینی قانون “بنیادی قانون: حکومت” (Basic Law: The Government) کے تحت نگران حکومت کو بلا تعطل ریاستی امور چلانے کا پورا اختیار ہوتا ہے، لیکن اس کے انتظامی اور قانونی اختیارات پر عدالتی نظائر (Judicial Precedents) اور سپریم کورٹ (High Court of Justice) کی طرف سے شدید قانونی حدود اور رکاوٹیں عائد کی جاتی ہیں۔
نگران حکومت کے بنیادی اور ضروری اختیارات (Authorized Powers)
نگران حکومت کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ “ریاست میں انتظامی خلا (Administrative Vacuum) پیدا نہیں ہونا چاہیے”۔ اس لیے اسے درج ذیل کام کرنے کا مکمل قانونی حق حاصل ہے.
ریاستی امور اور دفاع کا تسلسل:
ملک کا روزمرہ کا نظام، بجٹ کے انتظامی امور، اور تمام وزاتوں کے روٹین کے کام چلانا۔
قومی سلامتی، دفاعی آپریشنز اور ہنگامی صورتحال (Emergency Situations) میں ملک اور سرحدوں کا تحفظ کرنا۔
سیکورٹی، انٹیلی جنس اور سٹریٹجک فیصلے.
اگر ملک کو فوری عسکری یا سیکیورٹی خطرہ لاحق ہو، تو نگران وزیراعظم اور اس کی سیکیورٹی کابینہ فوری عسکری اقدامات اور ہنگامی فیصلوں کا پورا اختیار رکھتی ہے۔
محدود وقتی تقرریاں
اگر کسی اہم عہدے پر فوری یا ہنگامی طور پر کوئی عارضی تقرری (Acting Appointment) کرنا ضروری ہو، تو وہ کی جا سکتی ہے۔
نگران حکومت کی قانونی اور انتظامی حدود (Legal Restrictions)
اسرائیلی آئینی ماہرین اور اٹارنی جنرل کے طے کردہ قواعد کے مطابق، چونکہ نگران حکومت کو موجودہ کنسٹ (پارلیمنٹ) کا با قاعده اعتماد (Confidence) حاصل نہیں ہوتا، اس لیے اس کے اختیارات کو “سیلف ریسٹرینٹ” (خود ساختہ پابندی) کے تحت محدود رکھا جاتا ہے:
طویل المدتی اور پالیسی ساز فیصلے (Long-Term Strategic Decisions)
نگران حکومت کوئی بھی ایسا بڑا معاشی یا سیاسی فیصلہ نہیں کر سکتی جس کے اثرات آئندہ آنے والی نئی منتخب حکومت پر زبردستی مسلط ہوں۔
نئے بڑے انفراسٹرکچر کے منصوبوں، معاشی پیکجوں، یا ٹیکسیشن میں تبدیلی کی اجازت نہیں ہوتی۔
اہم سینئر ترین تقرریاں (Senior Permanent Appointments)
نگران حکومت اعلیٰ ترین آئینی اور انتظامی عہدیداروں کی مستقل (Permanent) تقرری نہیں کر سکتی۔
مثلاً: چیف آف آرمی اسٹاف (IDF Chief of Staff)، اٹارنی جنرل، چیف آف پولیس، یا اسرائیل بینک کے گورنر کی مستقل تقرری نگران دور میں ممنوع ہے، جب تک کہ کوئی غیر معمولی ہنگامی ضرورت نہ ہو اور سپریم کورٹ اس کی اجازت نہ دے۔
بین الاقوامی معاہدو اور سرحدوں کی تبدیلیاں
نگران حکومت دوسرے ممالک یا بین الاقوامی اداروں کے ساتھ ایسے بڑے دفاعی، سیاسی یا جغرافیائی معاہدوں پر دستخط نہیں کر سکتی جو مستقبل کی سمت متعین کرتے ہوں۔
(تاہم اگر کوئی معاہدہ سیکیورٹی یا ہنگامی نقطہ نظر سے انتہائی ضروری ہو، تو اس کے لیے اٹارنی جنرل اور سپریم کورٹ کی خصوصی منظوری درکار ہوتی ہے)۔
قانون سازی میں ترامیم (Legislative Limitations)
چونکہ انتخابات کے بعد پرانی کنسٹ تحلیل ہو چکی ہوتی ہے یا نئی کنسٹ نے ابھی اعتماد کا ووٹ نہیں دیا ہوتا، اس لیے نگران حکومت کوئی نیا قانون یا آئینی ترمیم باقاعدہ پاس نہیں کروا سکتی۔
سپریم کورٹ اور اٹارنی جنرل کا مرکزی کردار
اسرائیل میں نگران حکومت کے تمام اقدامات پر اٹارنی جنرل (Attorney General) اور سپریم کورٹ کا بظاہر اور باقاعدہ سخت پہرہ ہوتا ہے:
اٹارنی جنرل نگران حکومت کے ہر بڑے فیصلے کا جائزہ لیتا ہے اور یہ گائیڈ لائن جاری کرتا ہے کہ فیصلہ “ضروری روزمرہ کا کام” (Restraint and Reasonable Necessity) ہے یا “حد سے تجاوز”۔
اگر نگران حکومت اپنے سیاسی مفاد کے لیے کوئی غیر معمولی فیصلہ کرے، تو اپوزیشن یا سول سوسائٹی گروپس اسے فوری طور پر سپریم کورٹ (High Court of Justice) میں چیلنج کر دیتے ہیں، اور عدالت اکثر نگران حکومت کے ایسے احکامات کو کالعدم (Strike Down) قرار دے دیتی ہے۔
خلاصہ: اسرائیل میں نگران حکومت ایک “سٹیٹس کو” (Status Quo) اور سرپرست حکومت کے طور پر کام کرتی ہے۔ اس کے پاس ملک چلانے اور سیکیورٹی کی حفاظت کے تمام بنیادی اختیارات ہوتے ہیں، لیکن اسے کوئی بھی بڑا نیا پالیسی ساز فیصلہ کرنے، سینئر تقرریاں کرنے، یا طویل المدتی معاشی و سیاسی معاہدے کرنے کی آئینی اجازت نہیں ہوتی۔
اسرائیل کے 27 اکتوبر 2026ء کے پارلیمانی انتخابات (26ویں کنست) کی گنتی مکمل ہوچکی ہے۔ مرکزی الیکشن کمیٹی کے جاری کردہ حتمی نتائج نے ملک کو ایک بار پھر سنگین سیاسی تعطل (Political Deadlock) میں دھکیل دیا ہے، کیونکہ نہ تو وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا بلاک اور نہ ہی اپوزیشن کا بنیادی اتحاد حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کر سکا ہے۔
ذیل میں الیکشن 2026ء کی موجودہ صورتحال، بلاکس کی تفصیل اور حکومت سازی کے ممکنہ سناریوز کی جامع رپورٹ پیش ہے:
کنست کی 120 نشستوں کا حتمی خدوخال
انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 77.97% رہا۔ پارٹی وائز نشستوں کی تقسیم درج ذیل ہے:
لیکوڈ Party (Likud – نیتن یاہو): 27 نشستیں
یاشار (Yashar – گیڈی آئزن کوٹ): 21 نشستیں
بیخاد / ٹوگیدر (B’Yachad – نفٹالی بینیٹ / یائر لاپید): 12 نشستیں
جوائنٹ لسٹ (Joint List – عرب اتحاد): 11 نشستیں
دی ڈیموکریٹس (The Democrats – یائر گولان): 8 نشستیں
رعام (Ra’am – منصور عباس): 8 نشستیں
اسرائیل بیتینو (Yisrael Beyteinu – ایویگڈور لیبرمین): 7 نشستیں
عوتسما یہودیت (Otzma Yehudit – اتمار بن گویر): 7 نشستیں
یو این ٹی جے / مذہبی (UTJ – ہریدی اشکینازی): 7 نشستیں
شاس (Shas – ہریدی سفاردی): 6 نشستیں
ریلیجیس صیہونسٹ پارٹیز (Smotrich): 6 نشستیں
بلاکس کی موجودہ تقسیم (Political Bloc Division)
کنست کے 120 ایوان میں سیاسی دھڑے بندی تین واضح بلاکس میں تقسیم ہو چکی ہے:
+———————————————————————–+
| کنسٹ (120 نشستیں) |
+————————————+———————————-+
| نیتن یاہو (پرو) بلاک: 53 نشستیں | (لیکوڈ + مذہبی حریدی + صیہونیت) |
| اپوزیشن (اینٹی نیتن یاہو): 48 نشستیں | (یاشار + بیخاد + ڈیموکریٹس + ..) |
| عرب جماعتیں: 19 نشستیں | (جوائنٹ لسٹ + رعام) |
+————————————+———————————-+

نیتن یاہو کا دائیں بازو / مذہبی بلاک (53 نشستیں)
ترکیب: لیکوڈ (27) + UTJ (7) + عوتسما یہودیت (7) + شاس (6) + مذہبی صیہونیت (6)۔
حالت: اگرچہ نیتن یاہو کی لیکوڈ سب سے بڑی سنگل پارٹی بن کر ابھری ہے، لیکن ان کا پورا بلاک 61 کے جادوئی ہندسے سے 8 نشستیں دور ہے۔
صیہونی اپوزیشن بلاک (48 نشستیں)
ترکیب: یاشار (21) + بیخاد (12) + ڈیموکریٹس (8) + اسرائیل بیتینو (7)۔
حالت: سابق آرمی چیف گیڈی آئزن کوٹ کی قیادت میں یہ بلاک نیتن یاہو کے مقابلے میں پیچھے ہے اور تنہا حکومت نہیں بنا سکتا۔
عرب جماعتوں کا بلاک (19 نشستیں – تاریخی کامیابی)
ترکیب: جوائنٹ لسٹ (11) + رعام (8)۔
حالت: فلسطینی اور عرب اسرائیلی شہریوں کے اس ریکارڈ ٹرن آؤٹ نے الیکشن کے توازن کو تبدیل کر دیا ہے۔ تاہم، صیہونی جماعتوں کے لیے ان کے ساتھ باقاعدہ مخلوط حکومت بنانا ایک بڑا سیاسی رسک ہے۔
ممکنہ حکومت سازی کے 4 سناریوز (Coalition Scenarios)
سناریو 1: نیتن یاہو کی طرف سے “باغی اراکین” کو توڑنا (Defections)
نیتن یاہو سب سے پہلے صدر آئزک ہرزوگ سے حکومت سازی کا مینڈیٹ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ 53 نشستوں کے ساتھ، ان کی سب سے پہلی حکمتِ عملی اپوزیشن بلاک (مثلاً ‘بیخاد’ یا دیگر نچلے اراکین) سے 8 اراکین کو توڑ کر یا شامل کر کے 61 کی اکثریت حاصل کرنا ہوگی۔
سناریو 2: ایویگڈور لیبرمین کی شمولیت (Kingmaker Role)
ایویگڈور لیبرمین (7 نشستیں) نیتن یاہو کو 60 کے قریب لا سکتے ہیں، لیکن لیبرمین کی شرط ہے کہ وہ “ہریدی مذہبی طبقے کو فوجی سروس” (Haredi Draft) میں شامل کریں گے۔ اگر نیتن یاہو یہ شرط مانتے ہیں تو ان کے اتحادی مذہبی پارٹیاں (شاس اور UTJ) حکومت چھوڑ دیں گی۔
سناریو 3: اپوزیشن کا عرب جماعتوں کی “خارجی حمایت” (Outside Support) پر انحصار
اپوزیشن لیڈر گیڈی آئزن کوٹ اور یائر لاپید اگر 48 نشستوں کے ساتھ 19 عرب اراکین کو راضی کر لیں، تو وہ ایک ‘اقلیتی حکومت’ (Minority Government) بنا سکتے ہیں۔ لیکن آئزن کوٹ الیکشن سے پہلے عرب پارٹیوں کی باقاعدہ حکومت میں شمولیت کو مسترد کر چکے ہیں، جس کی وجہ سے یہ اتحاد بہت نازک رہے گا۔
سناریو 4: قومی یکجہتی حکومت (Grand Unity Government)
اگر کوئی بھی فریق 61 کا عدد حاصل نہ کر سکا، تو صدر اور سیکیورٹی ادارے نیتن یاہو (لیکوڈ) اور آئزن کوٹ (یاشار) پر قومی یکجہتی کی مخلوط حکومت قائم کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے، جس میں وزیراعظم کی باری باری (Rotation) کا فارمولا طے پا سکتا ہے۔
حتمی نچوڑ: 2026ء کا الیکشن کسی ایک واضح فاتح کا فیصلہ نہیں کر سکا ہے۔ اسرائیل اب چند ہفتوں کی شدید سیاسی سودے بازی (Political Horse-Trading) کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ اگر سیاسی رہنما اپنی ضد اور وعدے توڑنے پر تیار نہ ہوئے، تو ملک ایک بار پھر دوبارہ نئے انتخابات (Snap Elections) کی طرف جا سکتا ہے۔