محمد اعجاز الحق صدر—–پاکستان مسلم لیگ(ض)

کشمیری عوام اپنے ارض وطن کشمیر پر بھارتی فوجی تسلط کے خلاف آج 27 اکتوبر کو مقبوضہ وادی، بھارت اور دنیا بھر میں یوم سیاہ اور یوم الحاق پاکستان اس فضا میں منا رہے ہیں جب اپنے آزاد وطن کیلئے گذشتہ 77 سال سے جدوجہد میں مصروف فلسطینی باشندے ظالم اور غاصب اسرائیل کے ہاتھوں پریشان ہیں‘ جنوب ایشاء کی طرح مشرق وسطی میں ایک نئی کربلا بپا ہے‘ غزہ میں تو اسرائیل نے جو تباہی مچائی ہے‘ وہاں انسانیت دم توڑ رہی ہے امن معاہدے کے باوجود اسرائیل باز نہیں آرہا‘ دنیا کی ساری الحادی قوتیں اسرائیل کی پشت پر کھڑی ہیں۔ حماس کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہیں اور مسلم دنیا بے بس دکھائی دے رہی ہے پاکستان کی جانب سے فلسطینیوں اور کشمیریوں کی امداد کے لیئے قرار دادیں قومی اسمبلی میں منظور گئی ہیں کشمیری عوام مسلم دنیا کی اس بے حسی کے باعث ہی اپنی آزادی کی جدوجہد میں بھارتی فوجوں کا تنہا مقابلہ کررہے ہیں اور اپنی بے بہا قربانیوں کی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ بھارت نے تقسیم ہنداور قیام پاکستان کے سوا دو ماہ بعد 27 اکتوبر 1947ء کو مہاراجہ ہری سنگھ سے منسوب ایک جعلی دستاویز کو جواز بنا کر وادی کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کی تھیں اور آج بعدبھی وادی کشمیر بھارتی فوجوں کے تسلط میں ہے جنہوں نے کشمیریوں کی بھارتی تسلط سے آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کیلئے اٹھائی جانے والی آواز دبانے کیلئے ہر قسم کے مظالم اور جبر و تشدد کے کسی ہتھکنڈے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس کے باوجود مادر وطن کی آزادی کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کے جذبے سے معمور کشمیری عوام کے پائے استقلال میں ہلکی سی بھی لرزش پیدا نہیں کی جا سکی۔ کشمیری عوام ہر سال 27 اکتوبر کو اسی جذبے سے لبریز ہوکر بھارتی قبضے کے خلاف یوم سیاہ اور یوم الحاق پاکستان مناتے ہیں اور عالمی ضمیر بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اسی تناظر میں آج بھی کشمیری عوام دنیا بھر میں یوم سیاہ منائیں گے اور نمائندہ عالمی اداروں کو مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوجوں اور دوسری سکیورٹی فورسز کے مظالم اور کشمیر پر بھارتی اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی سے علاقائی اور عالمی امن و استحکام کو لاحق ہونے والے سنگین خطرات کی جانب متوجہ کریں گے‘ تقسیم ہند کے وقت یہی کہا گیا تھا کہ ہندوستان کی خودمختار ریاستوں کو اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کا اختیار ہوگا اس فارمولے کے تحت اکثریتی آبادی کی بنیاد پر متعلقہ ریاستوں کو پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کا اختیار بھی دیا گیا اس وقت مہاراجہ ہری سنگھ ریاست جموں و کشمیر کے حکمران تھے جبکہ اس ریاست کی اکثریتی آبادی پر مشتمل مسلمانوں نے چودھری غلام عباس کی قیادت میں اپنے ایک نمائندہ اجتماع میں کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا باقاعدہ فیصلہ اور اعلان کر دیا۔ لیکن بھارت کی ہندو قیادت کی نیت کشمیر پر تسلط جمانے کی تھی تاکہ بادل نخواستہ پاکستان قائم ہو جائے تو کشمیر کا اس کے ساتھ الحاق نہ ہونے دیا جائے تاکہ اسے ریاست جموں و کشمیر تک رسائی میں آسانی ہو سکے۔ اسی طرح قیام پاکستان کے بعد کشمیریوں کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے فیصلہ پر بھی عملدرآمد نہ ہونے دیا گیا جس کا مقصد بھارت کو کشمیر پر تسلط جمانے کا موقع فراہم کرنا تھا۔ اسی دوران26 اکتوبر 1947ء کو بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو کی جانب سے مہاراجہ ہری سنگھ سے منسوب ایک دستاویز منظرعام پر لائی گئی جو کشمیر کے بھارت سے الحاق کا جعلسازی پر مبنی ایک معاہدہ تھا جسے جواز بنا کر بھارت نے اگلے ہی روز 27 اکتوبر کو ریاست جموں و کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کر کے اس کے غالب حصے پر اپنا تسلط جما لیا اور پھر خود ہی کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے کر اسکے تصفیہ کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کر دی۔ بھارت نے اس قرارداد کے ساتھ مہاراجہ ہری سنگھ سے منسوب الحاق کے معاہدے کی دستاویز منسلک کرنے سے بھی گریز کیا تاکہ اس کا جھوٹ طشت ازبام نہ ہو سکے۔ کیونکہ اس دستاویز پر مہاراجہ ہری سنگھ کے دستخط تک موجود نہیں تھے جو اس کے جعلی ہونے کا ثبوت تھا۔ پھر یہ دستاویز سرے سے غائب کر دی گئی سلامتی کونسل نے بھارت کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے 20 جنوری 1948ئاور 21 اپریل 1948ء کو پیش کی گئی قراردادوں پر فیصلہ صادر کرتے ہوئے کشمیری عوام کو استصواب کا حق دیا اور یو این کمشن برائے بھارت و پاکستان تشکیل دے کر اس کے ماتحت استصواب کے اہتمام کی ہدایت کی جس کیلئے بھارت سے کہا گیا کہ وہ رائے شماری کیلئے اقوام متحدہ کے نامزد کردہ استصواب ایڈمنسٹریٹر کا تقرر عمل میں لائے گا اور کشمیر سے بتدریج اپنی افواج نکال لے گا، مگر بھارت سلامتی کونسل کے اس فیصلہ کو تسلیم کرنے کے باوجود اس پر عملدرآمد سے منحرف ہو گیا پاکستان کی سلامتی کے خلاف بھی سازشیں کر رہا ہے بھارت کی مودی سرکاری نے اپنے ہندوتوا کے ایجنڈے کے تحت پانچ اگست 2019ء کو بھارتی آئین کی دفعات 370، اور 35 اے کو حذف کرا کے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ کیا اور اسے سری نگر اور لداخ کے دو حصوں میں تقسیم کر کے بھارت میں ضم کر دیا جو درحقیقت اسکی کشمیر کا ٹنٹا ختم کرنے کی سازش تھی۔ اس بھارتی اقدام کے باعث پاکستان بھارت کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے اور دوسری جانب کشمیری عوام اسی تناظر میں عالمی برادری کو بھارت کا مسلم دشمن اصل مکروہ چہرہ دکھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے۔ آج 27 اکتوبر کو کشمیری عوام اسی جذبے کے تحت بھارتی فوجی تسلط کے خلاف دنیا بھر میں یوم سیاہ اور یوم الحاق پاکستان منا رہے ہیں مسلم دنیا کی کمزوریوں کے باعث بھارت کشمیریوں پر نئے مظالم ڈھا رہا ہے اگر عالمی قیادتوں اور نمائندہ عالمی اداروں نے بھارتی جنونیت کا اب بھی نوٹس نہ لیا اور مسئلہ کشمیر کیلئے یو این قراردادوں پر عملدرآمد سے گریز کیا تو بھارت کے ہاتھوں علاقائی اور عالمی امن کی تباہی بعیداز قیاس نہیں‘ بھارت کے خلاف ایک ڈنڈے کے کھلے استعمال کی ضرورت ہے اور وہ ڈنڈا ہے ہماری ایٹمی طاقت۔ جب براس ٹیک کے ذریعے بھارت نے 1984ء میں پاکستان کے خلاف جنگ کا ارادہ کیا تھا تو اس وقت کے صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق نے کرکٹ میچ دیکھنے کے بعد بھارت سے واپسی پر بھارتی وزیر اعظم کے کان میں صرف یہ کہا تھا کہ ایٹمی جنگ ہونے کی صورت میں اگر پاکستان سے مسلمان ختم بھی ہو گئے تو دنیا بھر میں مسلمان ہر خطے میں موجود رہیں گے لیکن بھارت سے ہندووں کے ختم ہونے کی صورت میں ہندو پوری دنیا سے ختم ہو جائیں گے تو اس پیغام کے فوری بعد بھارت نے پاکستان پر حملے کے فیصلے کو واپس لے کر اپنی افواج کو بارڈرز سے واپس بلوا لیا تھا۔ آج ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اقوام متحدہ کو یہ واضح پیغام دے دیں کہ 78 سال گزرنے کے باوجود جب اقوام متحدہ نے خود اپنی ہی قراردادوں پر عمل نہیں کروایا اور بھارت آج اپنی ہٹ دھرمیوں میں 78 سال پہلے کے مقابلے میں اور آگے بڑھ گیا ہے تو پھر ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں کہ ہم بھارت کے خلاف ایٹمی قوت بروے کار لائیں۔ ہمیں چاہے اپنی ایٹمی ٹیکنالوجی استعمال کرنا پڑے، ہم کشمیر کو بھارتی قبضے سے آزاد کروائیں گے۔ یقین مانئے جس دن ہم اقوام متحدہ کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گئے کہ اب ہم اپنے تمام موجود وسائل کشمیر کو آزاد کروانے کے لئے استعمال کرنے سے دریغ نہیں کریں گے تو اسی روز سے ایسی انقلابی تبدیلی آئے گی کہ پوری دنیا بھارت کو مجبور کر دے گی کہ استصواب رائے کروا کر کشمیری عوام کو انکا حق دیا جائے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔ تو آئیے آج ہم یہ عہد کریں کہ کشمیر پر بھارت کے قبضے کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ جب نوجوان نسل آگاہ ہو گی اور پوری دنیا کو یہ پتہ ہو گا کہ اگر کشمیر کو بھارتی قبضے سے آزاد نہ کروایا گیا تو ایٹمی جنگ سے پوری دنیا کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے تو یقینی طور پر ہمیں ایٹمی قوت استعمال کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی اور بفضل خدا پاکستان مکمل بھی ہو جائے گا جب کشمیر پاکستان میں شامل ہو جائے گا