نائب امیر جماعتِ اسلامی، سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے منصورہ میں سیاسی مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاق اور پنجاب و سندھ حکومتوں کی ناکام ظالمانہ، بےحِسّ زرعی، گندم خریداری پالیسی سے کِسان/ہاری رُل گیا، شہریوں کے لئے آٹا کی قیمت مسلسل بڑھتی جارہی ہے اور مڈل مین منافع سمیٹ کر عیش کررہا ہے۔ حکمرانوں کی آستینوں میں بیٹھے انسان نما سانپ، مافیاز قومی معیشت کے لئے کینسر بن گئے ہیں۔ حکومتیں اپنے تمام خوش کُن دعوؤں کے باوجود ٹریڈ مافیاز کی جھولی میں گِرتی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگی کشیدگی یقیناً بڑے خطرات کا سبب بن رہی ہے لیکن حکومت، پارلیمنٹ، قومی قیادت اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لئے قومی ایکشن پلان بنانے میں ناکام ہیں۔ عوام، صارفین حالات اور مافیاز کے رحم و کرم پر ہیں۔ تیل، بجلی، بھاری بھرکم ٹیکسز اور حکومتی بدانتظامیوں کا بوجھ غریب، متوسط طبقے پر ڈال کر اُن کو زندہ درگور کردیا گیا ہے۔ کرپشن، سرکاری عیاشیاں، بےجا پروٹوکولز اور جھوٹ، مکر و فریب ختم کرکے خودانحصاری، خوداعتمادی، حقیقی کفایت شعاری، امانت و دیانت کے اُصولوں پر اقتصادی بحرانوں کا مقابلہ کیا جائے۔
لیاقت بلوچ سے سابق وفاقی اور تحریکِ انصاف کے سابق مرکزی رہنما اسد عمر نے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور آزاد جموں و کشمیر جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان، ڈائریکٹر اُمورِخارجہ راجہ خالد محمود اور ڈپٹی سیکرٹری قاضی شاہد حمید نے ملاقات کی۔ ملکی سیاسی صورتِ حال اور آزاد کشمیر، گلگت-بلتستان میں انتخابی اُمور پر تبادلہ خیال ہوا۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ جنگ ہارگئے، دوبارہ جنگ بھی نہیں چاہتے، شکست بھی تسلیم نہیں کررہے اور اپنی احمقانہ اُسلوبِ سیاست و بیان بازی سے پوری دُنیا کے امن اور معیشت کو تباہ کررہے ہیں۔ امریکی سیاست کو اب صیہونی شکنجے سے آزاد ہونا ہوگا۔ امریکہ دُنیابھر سے حمایت کی محرومی پر تنہائی کا شکار ہے، اب تو رُوس نے بھی 8، 9 مئی وِکٹری ڈے پر جنگ بندی کا اعلان کردیا ہے۔ ایران بااعتماد، مستقل جنگ بندی اور ناجائز، ناروا امریکی پابندیوں کے خاتمہ کے مطالبات پر حق بجانب ہے۔ امریکہ اور ایران کو امن معاہدہ کی طرف آجانا چاہیے، پاکستان کی ثالثی، سفارت کاری شاندار ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعتِ اسلامی آزاد جموں و کشمیر اور گلگت-بلتستان کے انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی۔ کشمیریوں کا حق ہے کہ اُنہیں آزادانہ، غیرجانبدارانہ انتخاب کا حق دیا جائے، انجینئرڈ الیکشن اور اس کے نتیجے میں بننے والی انجینئرڈ حکومتیں تحریکِ آزادی کشمیر کےلئے بوجھ اور اِس کی کامیابی میں بڑی رکاوٹ بن گئی ہیں۔ کشمیری، گلگت-بلتستان کی قیادتوں، جماعتوں اور مرغ بادنما سیاسی شخصیات نے برادری ازم، فرقہ وارانہ تعصبات اور سیاسی بےوفائی، مال و دولت کے بےدریغ استعمال سے سیاست، جمہوریت اور تحریکِ آزادی کو بڑے نقصانات سے دوچار کیا ہے، کشمیری عوام کرپٹ قیادت اور نظام کی تبدیلی کے لئے ووٹ دیں۔#
