نصراللہ رندھاوا نے سیدپور گاؤں متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی اسلام آباد انجینئر نصراللہ رندھاوا نے سیدپور گاؤں میں سی ڈی اے آپریشن سے متاثرہ افراد سے ملاقات کی اور متاثرین کے ہمراہ آپریشن سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان کے مسائل سنے اور حکومتی و سی ڈی اے اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انجینئر نصراللہ رندھاوا نے کہا کہ جن لوگوں نے اسلام آباد کو بسایا آج انہی کو بے دخل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کے مکانات بھی گرائے گئے جو صدیوں سے سیدپور میں آباد ہیں اور یہ عوام اپنے قانونی اور آئینی حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان ہر شہری کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی اجازت دیتا ہے، مگر افسوس کہ غریب عوام کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کانسٹی ٹیوشن ایونیو کی تمام عمارتیں سی ڈی اے کے ماسٹر پلان کے مطابق ہیں؟ اور جس مقصد کے لیے پلاٹس الاٹ کیے گئے تھے کیا ان پر وہی تعمیرات کی گئیں؟

انجینئر نصراللہ رندھاوا نے کہا کہ گرینڈ حیات جیسی بلند و بالا عمارتیں کیسے تعمیر ہوئیں اور شاہراہ دستور پر قائم بعض عمارتیں آئین پاکستان کا مذاق اڑا رہی ہیں، مگر کارروائی صرف غریب آبادیوں کے خلاف کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں چند کلومیٹر کے فاصلے پر الگ الگ قانون نافذ نظر آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیدپور کے عوام کے پاس مالکانہ حقوق موجود ہونے کے باوجود ان کے گھر گرائے جا رہے ہیں، جو سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیدپور کے باسیوں کو بے دخل نہ کیا جائے اور سی ڈی اے اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرے۔

امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نے کہا کہ سیدپور کو ماڈل ویلیج کا درجہ خود سی ڈی اے نے دیا تھا، اس لیے اب وہاں کے رہائشیوں کے خلاف طاقت کا استعمال کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں چل سکتا کہ جہاں طاقت چلے وہاں بلڈوزر چلا دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اشرافیہ کی عمارتیں ریگولرائز ہو سکتی ہیں تو سیدپور گاؤں کو بھی قانونی تحفظ دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک شہر میں دو قانون نہیں چلنے دیں گے اور جماعت اسلامی ہر سطح پر متاثرین کے ساتھ کھڑی رہے گی۔