مالیاتی توازن کیسے قائم ہو سکتا ہے

پیٹرولیم لیوی کے بغیر پاکستان کا مالیاتی توازن کیسے قائم ہو سکتا ہے؟
تحریر: حامد اطہر ملک
پاکستان کی معیشت کو اس وقت بلاشبہ سنگین مالیاتی مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت کے لیے آمدن اور اخراجات میں توازن قائم رکھنا، قرضوں کی ادائیگی کرنا اور ریاستی نظام چلانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس مالیاتی توازن کی قیمت ہر مرتبہ عام شہری ہی ادا کرے؟ کیا سرکاری خزانے میں کمی کا آسان ترین علاج پیٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس اور لیوی بڑھانا ہی رہ گیا ہے؟
پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی بظاہر حکومت کے لیے آمدن کا ایک آسان ذریعہ ہے، لیکن معاشی اعتبار سے اس کے اثرات صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتے۔ ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو نقل و حمل کے اخراجات بڑھتے ہیں، زرعی پیداوار کی لاگت متاثر ہوتی ہے، صنعت اور تجارت کے اخراجات بڑھتے ہیں اور بالآخر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ یوں پیٹرولیم لیوی دراصل ایک ایسا بالواسطہ بوجھ بن جاتی ہے جس کی قیمت معاشرے کا تقریباً ہر طبقہ ادا کرتا ہے۔
اگر 1.5 ٹریلین روپے سے زیادہ کی پیٹرولیم لیوی ختم کردی جائے تو بجٹ میں پیدا ہونے والا خلا کہاں سے پورا ہوگا؟
یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب درج ذیل ہے ۔
1۔ سب سے پہلے مقامی طور پر پیدا ہونے والے پیٹرولیم پر Import Parity Pricing کی پالیسی کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ ملک کی تقریباً 25 فیصد پیٹرولیم ضرورت مقامی پیداوار سے پوری ہوتی ہے۔ اس مقامی پیداوار پر تقریباً 30 روپے فی لیٹر کے تخمینی امپورٹ پیریٹی فرق کی اصلاح سے سالانہ قریب 120 ارب روپے کی مالی گنجائش یا صارفین کے لیے ریلیف پیدا کیا جاسکتا ہے۔ اصول بہت سادہ ہے: جو تیل کسی غیر ملکی بندرگاہ سے درآمد ہی نہیں ہوا، اس پر درآمدی لاگت سے منسلک غیر ضروری قیمت کیوں عائد جائے؟
2۔ دوسرا اہم راستہ تیار شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کم کرکے خام تیل درآمد کرنا اور اسے پاکستان کی ریفائنریوں میں پراسیس کرنا ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق درآمدی تیار شدہ ایندھن کے مقابلے میں مقامی طور پر خام تیل ریفائن کرنے سے تقریباً 21 روپے فی لیٹر لاگت کا فائدہ ممکن ہے، جس سے سالانہ قریب 185 ارب روپے بچائے جاسکتے ہیں۔ اس اقدام کا ایک اضافی فائدہ یہ ہوگا کہ مقامی ریفائنریوں کے استعمال کی استعداد بہتر ہوگی اور زرمبادلہ پر دباؤ بھی کم ہوسکتا ہے۔
3۔ ایک اور سوال بھی جواب طلب ہے۔ صارفین برسوں تک ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کے نام پر مختلف چارجز ادا کرتے رہے، لیکن ریفائنری آپریٹنگ کپیسٹی کا بڑا حصہ اب بھی استعمال میں نہیں ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ گزشتہ تقریباً بیس برس میں وصول کیے گئے Deemed Duty اور Upgradation Charges کا آزادانہ آڈٹ کیا جائے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ صارفین سے کتنی رقم وصول ہوئی، کتنی اپ گریڈیشن پر خرچ ہوئی اور وعدہ کردہ جدید کاری کے نتائج کہاں ہیں؟
4۔ ٹیکس بڑھانے سے پہلے حکومتی اخراجات کم کیے جائیں
ایک ذمہ دار حکومت کی مالیاتی حکمت عملی کا بنیادی اصول ہونا چاہیے کہ عوام پر نیا بوجھ ڈالنے سے پہلے اپنے اخراجات کا جائزہ لیا جائے۔ وفاقی اخراجات میں کئی ایسے شعبے موجود ہیں جہاں اصلاح اور وفاق و صوبوں کے درمیان ذمہ داریوں کی مناسب تقسیم سے قابل ذکر بچت ممکن ہے۔ سماجی تحفظ کے بعض اخراجات کی صوبوں کے ساتھ شراکت سے تقریباً 419 ارب، بعض غیر ضروری قومی معاشی اقدامات کی rationalization سے 180 ارب، contingent liabilities کے بہتر انتظام سے 100 ارب، وفاقی PSDP میں ذمہ داریوں کی درست تقسیم سے 200 ارب اور ترقیاتی منصوبوں میں duplication ختم کرکے مزید 50 ارب روپے کی سالانہ بچت ممکن ہے۔ ان اقدامات کا مجموعی تخمینہ تقریباً 949 ارب روپے سالانہ بنتا ہے۔
5۔ علاؤہ ازیں ورلڈ بنک کے مطابق چھ مختلف اصلاحات سے تقریباً 1.124 ٹریلین روپے سالانہ وفاقی اخراجات میں ممکنہ بچت ہو سکتی ہے۔ ان میں devolved ministries پر وفاقی اخراجات میں کمی، BISP کے اخراجات میں صوبائی شراکت اور وفاقی ترقیاتی اخراجات کو وفاقی ذمہ داریوں تک محدود کرنا بھی شامل ہیں۔
6۔ قرض کی قیمت بھی کم کرنا ہوگی
پاکستان کے بجٹ پر سب سے بڑا دباؤ قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگی کا ہے۔ لہٰذا صرف ٹیکس بڑھانے کے بجائے حکومت کے borrowing cost کو کم کرنا بھی مالیاتی اصلاح کا بنیادی حصہ ہونا چاہیے۔
اس ضمن میں Cash Reserve Requirement یعنی CRR میں تبدیلی اور پالیسی ریٹ میں کمی کے ذریعے قرضوں کی لاگت کم میں مدد مل سکتی ہے ۔ اگر CRR کو 15 فیصد کی سطح تک لے جانے سے تقریباً 448 ارب روپے جبکہ پالیسی ریٹ 11.5 فیصد سے 9 فیصد تک آنے کی صورت میں تقریباً ایک ٹریلین روپے سالانہ سودی اخراجات میں ممکنہ بچت ہو سکتی ہے۔
مقصد محض شرح سود کم کرنا نہیں بلکہ مہنگائی کو قابو میں رکھتے ہوئے قرضوں کی غیر معمولی لاگت سے قومی خزانے کو نکالنا ہونا چاہیے۔
7۔آئی پی پیز اور بجلی کا گردشی بوجھ
توانائی کے شعبے میں مہنگے معاہدے بھی قومی خزانے اور عوام دونوں پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔ باقی ماندہ IPP معاہدوں کے capacity payments، return on equity، قرضوں کی لاگت، dollar indexation اور take-or-pay شرائط کا شفاف جائزہ اور باہمی رضامندی سے ازسرنو مذاکرات کیے جائیں تو تقریباً 400 ارب روپے سالانہ کی ممکنہ بچت ہوسکتی ہے
8۔ وصول نہ ہونے والا ٹیکس
پاکستان کا بنیادی مسئلہ شاید ٹیکس کی شرح سے زیادہ ٹیکس وصولی کی کمزوری ہے۔ اگر موجودہ ٹیکس دہندگان اور پیٹرولیم صارفین پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے اس ٹیکس گیپ کا قابل ذکر حصہ وصول کرلیا جائے تو مالیاتی تصویر بڑی حد تک تبدیل ہوسکتی ہے۔
9۔اسی طرح غیر ضروری ٹیکس چھوٹ پر بھی نظرثانی ضروری ہے، البتہ خوراک، صحت، تعلیم اور دفاع جیسے حساس اور ضروری شعبوں کو تحفظ ملنا چاہیے۔
10۔ ٹیکس استثنیٰ کی rationalization، غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی اور سرکاری سطح پر غیر ضروری و تعیشاتی اخراجات محدود کر کے اضافی مالیاتی گنجائش پیدا کرنے کے ذرائع بھی ممکن ہے۔
مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، ترجیحات کا ہے
ان تمام 10 مجوزہ اقدامات کو یکجا کیا جائے تو ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے۔ ان سے تقریباً 3.102 ٹریلین روپے سالانہ کی ممکنہ بچت یا مالیاتی گنجائش ممکن ہے ۔ اس کے علاوہ 3.4 ٹریلین روپے کا تخمینی ٹیکس کلیکشن گیپ الگ ہے۔
بیان کردہ اعدادوشمار کم از کم اتنا ضرور ثابت کرتے ہیں کہ پیٹرولیم لیوی ناگزیر نہیں؛ متبادل راستوں پر سنجیدہ قومی اقدامات ممکن ہیں۔
پاکستان کے معاشی مسئلے کا مستقل حل یہ نہیں کہ جو شخص پٹرول پمپ پر آئے، اسے آسان ٹیکس دہندہ سمجھ کر قومی خزانے کا خسارہ اس کی جیب سے پورا کرلیا جائے۔ مستقل حل یہ ہے کہ ریاست اپنے اخراجات درست کرے، ضیاع روکے، واجب الادا ٹیکس وصول کرے، توانائی کے شعبے کی ساختی خرابیاں دور کرے اور حکومتی قرض کی لاگت کم کرے۔
عوام پر ٹیکس بڑھانے سے پہلے نظام کی خامیوں پر ہاتھ ڈالنا ہوگا۔
پیٹرولیم لیوی کم کرنا محض قیمتوں میں کمی کا مطالبہ نہیں، بلکہ پاکستان کی مالیاتی ترجیحات بدلنے کا مطالبہ ہے۔