ربیعہ کو منانا پڑے گا۔

ربیعہ کو منانا پڑے گا
تحریر: انجینئر افتخار چودھری
سعودی عرب میں جنرل موٹرز کے ساتھ کام کرتے ہوئے میری زندگی کے تقریباً پچیس سال گزرے۔ اس دوران سعودی معاشرے کو قریب سے دیکھنے کے ساتھ مختلف ملکوں، قوموں اور مزاجوں کے لوگوں کے ساتھ رہنے کا موقع بھی ملا۔ میری رہائش دمام میں تھی اور کراچی سے تعلق رکھنے والے کئی دوست تھے۔
انہی دنوں میرے دونوں بیٹے، نوید اور نبیل، پاکستان سے سعودی عرب آنے والے تھے۔ میں شاہ خالد بن ولید کے علاقے میں ایک چھوٹے سے ایک کمرے کے فلیٹ میں رہتا تھا اور میرے پاس گاڑی نہیں تھی۔ میں نے اپنے دوست جاوید صاحب سے کہا، ’’بچوں کو ایئرپورٹ سے لینے جانا ہے، آپ گاڑی لے کر چلیں۔‘‘
ان دنوں آمدورفت کے لیے ظہران ایئرپورٹ استعمال ہوتا تھا۔ ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ جاوید صاحب صرف اپنی بیٹی ربیعہ کو ساتھ لائے ہیں۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا، ’’جاوید صاحب! لگتا ہے آپ صرف ربیعہ سے پیار کرتے ہیں، باقی بچوں کو گھر چھوڑ آئے ہیں۔‘‘
جاوید صاحب مسکرائے اور بولے، ’’چودھری صاحب! ربیعہ گھر میں اپنی بہنوں سے لڑتی ہے، انہیں مارتی بھی ہے۔ میں اسے آپ کے ساتھ اس لیے لایا ہوں کہ شاید آپ اسے کچھ سمجھا سکیں۔‘‘
وہ ایک معمولی سا گھریلو واقعہ تھا، مگر آج مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال دیکھتا ہوں تو نہ جانے کیوں ربیعہ یاد آ جاتی ہے۔ کبھی کبھی زندگی کے چھوٹے واقعات بڑے معاملات کو سمجھنے کی مثال بن جاتے ہیں۔ آج بھی میرے ذہن میں وہی جملہ گونجتا ہے: ربیعہ کو منانا پڑے گا۔
آج سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا ہے۔ 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط کیے۔ معاہدے کے مطابق ایک فریق پر مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور ہوگا۔ پاکستان نے اسے دفاعی نوعیت کا معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کسی ملک کے خلاف نہیں۔
یہ ایک اہم علاقائی پیش رفت ہے۔ سعودی عرب ہمارا برادر اسلامی ملک ہے، ترکیہ دیرینہ دوست، جبکہ پاکستان کے سعودی عرب سے مذہبی، عوامی، معاشی اور دفاعی تعلقات کی طویل تاریخ ہے۔ لیکن یہاں ایک سوال بھی پیدا ہوتا ہے: ایران کہاں ہے؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ ایران کو جغرافیے سے نکالا نہیں جا سکتا۔ ایران ہمارا ہمسایہ، سعودی عرب ہمارا دوست اور ترکیہ بھی ہمارا دوست ہے۔ تینوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔ اگر پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تعاون کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے ایک ملک سے تعلق مضبوط کرتے ہوئے دوسرے کے لیے دروازہ بند کرنے کی ضرورت نہیں۔
ہماری اصل طاقت شاید یہی ہو سکتی ہے کہ ہم سب سے بات کریں۔
میں سعودی عرب میں تقریباً پچیس سال رہا۔ اس دوران میری زندگی کے کئی سال یمنی بھائیوں کے ساتھ گزرے۔ میں نے انہیں صرف اخبار کی سرخیوں یا ٹی وی کی خبروں میں نہیں دیکھا، بلکہ ان کے ساتھ کام کیا، چائے پی، ان کے گھروں میں گیا اور ان کی خوشیاں و پریشانیاں دیکھیں۔ اس لیے میرے لیے یمن نقشے پر بنا ہوا محض ایک ملک نہیں۔ وہاں بھی انسان رہتے ہیں، خاندان بستے ہیں، باپ اپنے بچوں کے لیے فکر مند ہوتے ہیں اور لوگ امن چاہتے ہیں۔
جنگ کا مسئلہ یہ ہے کہ دور بیٹھ کر دشمن آسانی سے نظر آتا ہے، لیکن جب آپ اسی انسان کے ساتھ بیٹھ چکے ہوں، اس کے ساتھ چائے پی ہو اور اس کی زبان و دکھ سمجھتے ہوں تو معاملہ بدل جاتا ہے۔
یمن کے بارے میں میری سمجھ یہی ہے کہ اسے صرف طاقت سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ جو قوم خود کو خطرے میں محسوس کرے گی، وہ مزاحمت کرے گی۔ اسے ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی تو وہ بھی لڑے گی۔ اس لڑائی کا انجام صرف میزائلوں، طیاروں اور بندوقوں سے نہیں نکلے گا۔ آخرکار میز پر بیٹھنا ہی پڑے گا۔
اسی لیے سعودی عرب، ایران، ترکیہ اور پاکستان سمیت خطے کے تمام اہم ممالک کو ایک دوسرے سے بات چیت کے راستے کھلے رکھنے چاہئیں۔
ہماری تاریخ بھی یہی سبق دیتی ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور سے متعلق ایک بات اکثر بیان کی جاتی ہے کہ ہرارے میں ایران کو اسلامی کانفرنس میں شامل کیا گیا تھا، مگر تاریخی طور پر درست صورت کچھ اور ہے۔ 1986 میں ہرارے، زمبابوے میں آٹھویں سربراہی کانفرنس غیر وابستہ ممالک کی تحریک کی تھی، اسلامی سربراہی کانفرنس کی نہیں۔ اس اجلاس میں ایران، پاکستان اور سعودی عرب سمیت کئی ممالک شریک تھے۔
اس کے بعد جنوری 1987 میں کویت میں پانچویں اسلامی سربراہی کانفرنس ہوئی۔ اس وقت ایران عراق جنگ ایک بڑا علاقائی مسئلہ تھی اور ایران نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ جنرل ضیاء الحق اس سے پہلے جنگ کے خاتمے کے لیے مسلم ممالک کی ایک سفارتی کوشش میں بھی شامل رہے تھے۔
یہ تاریخ بتاتی ہے کہ اختلاف اپنی جگہ، مگر رابطہ ختم کرنا ہمیشہ حل نہیں ہوتا۔
آج پاکستان کے سامنے بھی یہی امتحان ہے۔ سعودی عرب سے دفاعی تعاون ہو، ترکیہ سے تعلقات مضبوط ہوں، لیکن ایران سے بات چیت بھی جاری رہے۔ اگر اسلام آباد تہران، ریاض اور انقرہ کے درمیان ایسا کردار ادا کر سکے جس سے جنگ کے بجائے مذاکرات کی راہ نکلے تو یہ خطے کے لیے مفید سفارتی راستہ ہو سکتا ہے۔
اور یہاں مجھے پھر ربیعہ یاد آتی ہے۔
جاوید صاحب ربیعہ کو اس امید پر میرے ساتھ لائے تھے کہ شاید میں اسے سمجھا سکوں۔ آج مشرقِ وسطیٰ میں بھی کئی ربیعائیں ہیں؛ اختلافات، شکایتیں، پرانے زخم، مفادات اور ایک دوسرے سے خوف۔ ہر کوئی خود کو درست اور دوسرے کو مسئلے کی جڑ سمجھتا ہے۔
لیکن گھر اپنا ہو تو لڑائی کو ہمیشہ کی جنگ نہیں بنایا جاتا۔ کبھی کوئی بڑا بیچ میں بیٹھتا ہے، کبھی کوئی ایک قدم پیچھے ہٹتا ہے، کبھی کسی کو منانا پڑتا ہے اور کبھی اپنی بات سمجھانی پڑتی ہے۔
پاکستان کے لیے بھی شاید یہی راستہ ہے۔
ہم سعودی عرب سے دوستی نبھائیں، ترکیہ کے ساتھ کھڑے ہوں، مگر ایران کے دروازے پر دستک دینا نہ چھوڑیں۔ یمن کے مسئلے کو صرف عسکری زاویے سے نہ دیکھیں بلکہ وہاں کے انسانوں اور سیاسی حقیقتوں کو بھی سمجھیں۔ عرب دنیا اور ایران کے اختلافات میں پاکستان کو فاصلے بڑھانے والا فریق نہیں، بات چیت کے راستے کھولنے والا ملک بننا چاہیے۔
مکہ کا دفاعی معاہدہ اپنی جگہ اہم ہے، لیکن دفاع اور سفارت کاری ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ مضبوط دفاع کے ساتھ مضبوط سفارت کاری بھی ضروری ہے۔ اگر پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت، سعودی تعلقات، ترکیہ سے قربت اور ایران سے ہمسائیگی کو متوازن سفارتی حکمتِ عملی میں ڈھال سکے تو وہ خطے میں منفرد کردار ادا کر سکتا ہے۔
ہمیں دیوار نہیں، پل بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔
دشمنیاں نسلوں تک چل سکتی ہیں، مگر مذاکرات کا ایک دروازہ کھل جائے تو تاریخ کا رخ بھی بدل سکتا ہے۔
میری پوری بات کا خلاصہ اسی چھوٹے سے واقعے میں ہے۔ جاوید صاحب ربیعہ کو میرے ساتھ اس لیے لائے تھے کہ وہ اپنی بہنوں سے لڑتی تھی۔ مقصد اسے مارنا نہیں، سمجھانا تھا؛ گھر بچانا تھا۔
آج مشرقِ وسطیٰ کو بھی شاید اسی سوچ کی ضرورت ہے۔
اختلاف رہیں، مفادات رہیں، دفاعی معاہدے رہیں، مگر بات چیت کا دروازہ بند نہ ہو۔
ربیعہ کو منانا پڑے گا۔