27ستمبر : ٹائیں ٹائیں فش یا آر پار

تجزیہ: محمد اجمل خان۔ سینئر جرنلسٹ۔

27 ستمبر کو ہونے والا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا احتجاج ملکی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، لیکن تجزئیے بتاتے ہیں کہ یہ نہ تو مکمل طور پر ‘پھس’ ہو گا اور نہ ہی 26 نومبر 2024 جیسے کسی بڑے سانحے کا دوبارہ امکان ہے۔ دونوں اطراف (حکومت اور اپوزیشن) نے اس مرتبہ اپنی حکمتِ عملی تبدیل کی ہے، جس کی وجہ سے صورتحال یکسر مختلف نظر آ رہی ہے۔
موجودہ حالات اور دونوں محاذوں کی تیاریوں کا جائزہ درج ذیل ہے:
1۔ حکومتی حکمتِ عملی: ‘زیرو ٹالرنس’ اور سخت ناکہ بندی
راہیں مسدود کرنا: حکومت نے اسلام آباد اور راولپنڈی کی تمام اہم شاہرائوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے بھی واضح احکامات جاری ہوئے ہیں کہ کسی سیاسی جماعت کو وفاقی دارالحکومت کی سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔
پہلے سے گرفتاریاں (Pre-emptive Crackdown): پنجاب اور جڑواں شہروں میں پی ٹی آئی کے سرگرم کارکنوں اور مقامی قیادت کی تھری ایم پی او (3-MPO) کے تحت بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی جا رہی ہیں تاکہ احتجاجی قافلے جڑنے ہی نہ پائیں۔
توجہ تقسیم کرنے کا پلان: حکومت نے احتجاج کے دوران ہی قومی اسمبلی کا سیشن جاری رکھنے کی تجویز دی ہے تاکہ پی ٹی آئی کے اراکینِ پارلیمنٹ کی توجہ تقسیم رہے۔
2۔ پی ٹی آئی (PTI) کی حکمتِ عملی: ملکی سطح پر پھیلاؤ اور ‘پلان B’
توجہ صرف ڈی چوک پر نہیں: پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج صرف اسلام آباد تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ملک کے تمام اضلاع اور شہروں میں احتجاج کی کال دی گئی ہے۔
قافلوں کی قیادت: خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی اس لانگ مارچ کی قیادت کر رہے ہیں۔ پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر مرکزی قافلوں کو روکا گیا تو ان کے پاس ‘پلان B’ اور ‘پلان C’ بھی تیار ہیں۔
تین تہوں پر مشتمل قیادت: گرفتاریوں سے بچنے کے لیے پی ٹی آئی نے تین تہوں (Three Layers) پر مشتمل تنظیمی کمیٹیاں بنائی ہیں تاکہ ایک شفٹ کے گرفتار ہونے پر دوسری شفٹ قیادت سنبھال سکے۔
کیا یہ ‘آر یا پار’ کی لڑائی ہو گی یا پرانے احتجاج کی طرح ختم ہو جائے گا؟
پسیاسی مبصرین کے مطابق، اس احتجاج کے نتائج درج ذیل وجوہات کی بنا پر درمیانے درجے کے رہنے کی توقع ہے:
ممکنہ منظرنامہ
اثرات اور وجوہات
کیا ‘پھس’ ہو جائے گا؟
امکان کم ہے۔ کیونکہ کارکنان میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور پارٹی کے سیاسی حقوق کے لیے شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ملک گیر کال ہونے کی وجہ سے یہ احتجاج مختلف شہروں میں دباؤ بڑھانے کا باعث بنے گا۔
کیا ‘سانحہ ڈی چوک’ دوبارہ ہوگا؟
امکان کم ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ گولیوں کا استعمال نہیں کرے گی بلکہ شہروں کو بند ہونے سے روکے گی۔ پی ٹی آئی بھی عدالتی فیصلوں اور سنگین نتائج کے خوف سے تصادم سے بچنے کی کوشش کرے گی۔
کیا ‘آر یا پار’ ہو گا؟
نہیں، یہ صرف سیاسی دباؤ ہے۔ پاکستان کے موجودہ سیاسی نظام میں محض ایک احتجاج سے حکومت کا گرنا یا عمران خان کی فوری رہائی ممکن نہیں ہے۔ یہ مارچ دراصل حکومت پر پٹرولیم لیوی، مہنگائی اور آئینی بالادستی کے نام پر سیاسی دباؤ بڑھانے کا ایک حربہ ہے۔
27 ستمبر کا دن شدید سیاسی تناؤ، سڑکوں کی بندش، اور پکڑ دھکڑ کا دن تو ہو سکتا ہے، لیکن کسی بہت بڑی ‘انہونی’ یا نظام کے پلٹنے کا امکان نظر نہیں آتا۔ یہ احتجاج سیاسی دباؤ برقرار رکھنے کی ایک کڑی ثابت ہو گا۔
آ یہ بات بالکل درست ہے کہ آج کے حالات ماضی جیسے نہیں ہیں، اور دونوں طرف سے سیاسی تناؤ اپنی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ اگر ہم اس بدترین منظرنامے (Worst-Case Scenario) کا جائزہ لیں جہاں حالات مکمل طور پر بے قابو ہو جائیں، تو “پبلک کا قتل عام” یا “حکومت کا دھڑن تختہ” ہونے کے بجائے ملک ایک بالکل مختلف اور خطرناک رخ اختیار کر سکتا ہے۔
موجودہ زمینی حقائق کی روشنی میں، حالات بے قابو ہونے کی صورت میں درج ذیل 3 متوقع منظرنامے سامنے آ سکتے ہیں:
1۔ پی ٹی آئی کی حکمتِ عملی: کیا وہ ‘قتل عام’ ہونے دے گی؟
پی ٹی آئی نے ماضی کے تجربات (خاص طور پر 26 نومبر کے واقعات) سے سیکھا ہے۔ اگر تصادم اس حد تک بڑھ جائے جہاں جانی نقصان کا شدید خطرہ ہو، تو پی ٹی آئی عام طور پر دو راستے اختیار کرتی ہے:
احتجاج کا رخ موڑنا یا دھرنا ختم کرنا: بانی پی ٹی آئی نے ماضی میں کئی بار (جیسے مئی 2022 کے لانگ مارچ میں) تصادم اور خون خرابے سے بچنے کے لیے آخری وقت پر دھرنا ختم کرنے یا کارکنوں کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا تھا۔ پارٹی قیادت جانتی ہے کہ بڑے پیمانے پر جانی نقصان ان کے لیے شدید سیاسی اور عوامی ردعمل کا باعث بنے گا۔
پُرامن پسپائی (Strategic Retreat): اگر ریاست کی طرف سے شدید طاقت کا استعمال ہوا، تو پی ٹی آئی قیادت کارکنوں کو تصادم کے بجائے شہر کے مختلف حصوں میں بکھرنے اور “علامتی احتجاج” جاری رکھنے کا کہہ سکتی ہے تاکہ جانی نقصان کم سے کم ہو۔
2۔ ‘دھڑن تختہ’ (حکومت کا خاتمہ) کیسے ممکن ہے؟
موجودہ دور میں صرف عوامی ہجوم کے ذریعے اسلام آباد میں حکومت کا دھڑن تختہ ہونا ممکن نظر نہیں آتا، جب تک کہ اسٹیبلشمنٹ کا جھکاؤ تبدیل نہ ہو۔ تاہم، اگر حالات مکمل بے قابو ہو جائیں تو یہ صورتیں بن سکتی ہیں:
آئینی ڈیڈ لاک اور استعفے: اگر احتجاج اس قدر شدید ہو جائے کہ ملک مفلوج ہو جائے، تو حکومت پر پچھلے دروازے (Backchannel Talks) سے مذاکرات کا دباؤ بڑھے گا، جس کے نتیجے میں قبل از وقت انتخابات یا کسی درمیانی راستے (مثلاً آئینی ترامیم کی واپسی یا بانی پی ٹی آئی کی قانونی ریلیف) پر معاہدہ ہو سکتا ہے۔
گورنر راج یا ہنگامی حالت (Emergency): حکومت کا دھڑن تختہ ہونے کے بجائے، وفاق خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کر سکتا ہے یا پورے ملک میں ایمرجنسی پلس کا نفاذ ہو سکتا ہے، جس سے جمہوری عمل عارضی طور پر معطل ہو جائے گا۔
3۔ ‘ماضی اور آج میں فرق’: اب کھیل کیوں بدل چکا ہے؟
آبالکل صحیح نشاندہی کی گئی ہے کہ اب حالات وہ نہیں رہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ طاقت کا توازن (Power Dynamics) بدل چکا ہے:
ریاست کا سخت گیر رویہ: اب حکومت اور سیکیورٹی ادارے کسی بھی قسم کی نرمی دکھانے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ ریڈ لائنز بالکل واضح کر دی گئی ہیں، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فری ہینڈ دیا گیا ہے۔
عدالتوں کا محتاط کردار: ماضی میں عدلیہ اکثر احتجاجی تحریکوں کو تحفظ فراہم کرتی تھی (جیسے اسلام آباد آنے کی اجازت دینا)۔ لیکن اب عدالتیں بھی امن و امان برقرار رکھنے اور ریاستی رٹ کو اولیت دے رہی ہیں۔
کارکنوں کا بدلا ہوا مزاج: پی ٹی آئی کا عام کارکن اب صرف نعرے بازی تک محدود نہیں رہا، اس میں ایک شدید غصہ اور مایوسی ہے، جو ریاستی سختی کے سامنے کھڑے ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جو حالات کو کسی بھی وقت غیر متوقع بنا سکتا ہے۔
اگر حالات بے قابو ہوتے ہیں، تو نہ تو ریاست کسی “پبلک قتل عام” کی متحمل ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے بین الاقوامی پابندیاں اور ملک کے اندر خانہ جنگی کا خطرہ پیدا ہو جائے گا، اور نہ ہی پی ٹی آئی اکیلے سرے سے حکومت کا “دھڑن تختہ” کر سکتی ہے۔ سب سے زیادہ متوقع نتیجہ ایک شدید سیاسی تعطل (Stalemate) ہو گا، جو بالآخر دونوں فریقین کو کسی تیسرے فریق کی ثالثی کے ذریعے میز پر بیٹھنے اور کوئی درمیانی راستہ نکالنے پر مجبور کرے گا۔