اپنی قدر دوسروں کے ہاتھ نہ دیں
تحریر: انجینئر افتخار احمد چودھری
زندگی میں ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب انسان کو یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ اسے دوسروں کی خوشی کے لیے جینا ہے یا اپنی زندگی کو بھی کوئی ترتیب دینی ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ اس سوال کا جواب دینے میں برسوں لگا دیتے ہیں۔ ہر فون کا جواب، ہر دعوت میں شرکت، ہر فرمائش پوری کرنا، ہر شخص کی پریشانی کو اپنی پریشانی سمجھ لینا اور ہر تعلق کو بچانے کی کوشش کرتے رہنا ہمیں بظاہر اچھا انسان بناتا ہے، مگر کبھی کبھی یہی عادت ہماری اپنی زندگی کو بے ترتیب کر دیتی ہے۔
ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ وقت صرف گھڑی کی سوئیوں کا نام نہیں، یہ ہماری زندگی کا وہ حصہ ہے جو ایک بار گزر جائے تو واپس نہیں آتا۔
اسی لیے انسان کو یہ سیکھنا چاہیے کہ ہر شخص قابلِ احترام ہے، لیکن ہر شخص ہماری تمام توجہ کا مستحق نہیں ہوتا۔
یہ بات بظاہر سخت محسوس ہوتی ہے، مگر حقیقت میں اس کے اندر زندگی کا ایک بڑا سبق پوشیدہ ہے۔
ہم نے اپنے معاشرے میں اکثر دیکھا ہے کہ جو شخص ہر وقت دستیاب رہتا ہے، کچھ عرصے بعد اس کی دستیابی کو کوئی غیر معمولی خوبی نہیں سمجھا جاتا۔ وہ فون اٹھائے گا، وقت دے گا، دعوت میں آئے گا، مشکل میں پہنچے گا اور ضرورت پڑے گی تو سب سے پہلے حاضر ہوگا۔
شروع میں لوگ اس کے خلوص کی تعریف کرتے ہیں، پھر اس کے خلوص کے عادی ہو جاتے ہیں، اور آخرکار کبھی کبھی اسے اپنا حق سمجھنے لگتے ہیں۔
پھر اگر وہ ایک دن فون نہ اٹھائے تو سوال ہوتا ہے کہ آخر جواب کیوں نہیں دیا؟ اگر کسی دعوت میں شریک نہ ہو تو گلہ ہوتا ہے کہ آج کیوں نہیں آئے؟ اگر کسی مشکل میں فوراً نہ پہنچ سکے تو شکایت شروع ہو جاتی ہے۔
یہاں مسئلہ ہمیشہ سامنے والے کا نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی ہم نے خود اپنی حدود واضح نہیں کی ہوتیں۔
انسان اگر ہر وقت دوسروں کے لیے حاضر رہے تو لوگ اس کی محبت کو سہولت سمجھنے لگتے ہیں۔ اور جب محبت سہولت بن جائے تو اس کی قدر کم ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان لوگوں سے دور ہو جائے یا ہر فون کو نظر انداز کرنا شروع کر دے۔ اصل بات توازن کی ہے۔
ایک طرف وہ شخص ہے جو ہر وقت دوسروں کو خوش کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی ضروریات بھول جاتا ہے۔ دوسری طرف وہ شخص ہے جو اپنی مصروفیت اور مقام کے نام پر ہر ایک کو کمتر سمجھنے لگتا ہے۔ دونوں انتہائیں درست نہیں۔
اچھا انسان وہ ہے جو لوگوں کے کام بھی آئے اور اپنی زندگی کی سمت بھی نہ کھوئے۔
جو محبت کرے، مگر اپنی عزتِ نفس کے ساتھ۔
جو مدد کرے، مگر اپنی استطاعت کے مطابق۔
جو تعلق نبھائے، مگر یک طرفہ تعلق کو زندگی بھر کا فرض نہ سمجھ لے۔
جو دوسروں کے لیے وقت نکالے، مگر اپنے خاندان، اپنے کام، اپنی عبادت اور اپنی ذات کے لیے بھی وقت محفوظ رکھے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں وقار اور تکبر کا فرق سامنے آتا ہے۔
کسی کی ہر بات پر فوراً حاضر نہ ہونا تکبر نہیں۔ ہر دعوت میں شرکت نہ کرنا غرور نہیں۔ فون کا جواب کچھ دیر بعد دینا بے اعتنائی نہیں۔ اپنی نجی زندگی کے لیے حدود مقرر کرنا بھی کوئی جرم نہیں۔
تکبر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان دوسرے کو اپنے سے کمتر سمجھنے لگے۔
قرآن مجید کا مفہوم ہے: ایک دوسرے پر طعن نہ کرو۔
اور قرآن انسان کی اصل فضیلت کا معیار بھی واضح کرتا ہے: اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ متقی ہے۔
یعنی اصل عزت لوگوں کی تعداد، دولت، عہدے، شہرت یا اس بات سے نہیں بنتی کہ کتنے لوگ ہمارے گرد گھومتے ہیں۔ اصل عزت انسان کے کردار، تقویٰ اور اس کے رویے سے بنتی ہے۔
مولانا مودودیؒ کی قرآنی فکر بھی انسان کو اسی بنیادی حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ معاشرتی مقام اپنی جگہ، مگر انسان کی اصل قدر اس کے اخلاق، کردار اور ذمہ داری سے متعین ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ بہت کم ملتے ہیں، مگر جب ملتے ہیں تو دل جیت لیتے ہیں۔ کچھ لوگ روزانہ رابطے میں نہیں ہوتے، مگر مشکل وقت میں ان کی ایک کال یا ایک ملاقات بہت سے رسمی تعلقات پر بھاری پڑ جاتی ہے۔
تعلق کی گہرائی رابطے کی کثرت سے ہمیشہ ثابت نہیں ہوتی۔
کبھی خاموش رہنے والا دوست زیادہ مخلص ہوتا ہے اور کبھی ہر روز ملنے والا شخص صرف عادت کا حصہ ہوتا ہے۔
اسی طرح کسی کے ساتھ محبت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم ہر وقت اس کے گرد موجود رہیں۔
محبت میں بھی سانس لینے کی جگہ ضروری ہے۔
رشتوں میں بھی ایک دوسرے کے وقت اور مصروفیات کا احترام ہونا چاہیے۔ اگر کوئی شخص ہر لمحہ ہماری توجہ حاصل کرنا چاہے تو تعلق بوجھ بن سکتا ہے۔ اور اگر ہم ہر لمحہ کسی دوسرے کی توجہ کے محتاج رہیں تو ہماری اپنی شخصیت کمزور پڑ سکتی ہے۔
اس لیے زندگی میں ایک اصول ضرور ہونا چاہیے: تعلق رکھیں، مگر اپنی شخصیت نہ کھوئیں۔
یہ اصول خاص طور پر ان لوگوں کے لیے اہم ہے جو ہر شخص کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایسے لوگ اکثر خود تھک جاتے ہیں مگر کسی کو بتاتے نہیں۔ ہر کسی کی مشکل سنتے ہیں، ہر کسی کا کام کرتے ہیں، ہر کسی کے لیے وقت نکالتے ہیں، مگر جب خود تھک جائیں تو ان کے پاس اپنے لیے وقت نہیں بچتا۔
یہاں رک کر خود سے پوچھنا چاہیے: کیا میں واقعی دوسروں کی خدمت کر رہا ہوں یا مجھے ہر شخص کی منظوری کی ضرورت ہے؟
دونوں چیزوں میں بہت فرق ہے۔
خدمت خلوص سے ہوتی ہے، جبکہ ہر شخص کو خوش رکھنے کی خواہش بعض اوقات اندرونی بے اطمینانی سے پیدا ہوتی ہے۔
انسان کو اپنی قدر کے لیے دوسروں کی مسلسل تصدیق کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔
اگر کوئی ہمیں فون نہ کرے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہماری اہمیت ختم ہو گئی۔
اگر کوئی دعوت نہ دے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہماری عزت کم ہو گئی۔
اگر کوئی جواب دیر سے دے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم بے وقعت ہو گئے۔
لوگوں کے رویے بدلتے رہتے ہیں۔ حالات بدلتے ہیں، ترجیحات بدلتی ہیں، تعلقات کے انداز بدلتے ہیں۔ لیکن اگر انسان اپنی قدر کا معیار اپنے کردار کو بنا لے تو وہ ہر بدلتے رویے کے ساتھ ٹوٹتا نہیں۔
یہاں عزتِ نفس کا کردار بہت اہم ہے۔
عزتِ نفس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان معمولی سی بات پر تعلق ختم کر دے۔ نہ یہ کہ کسی کی غلطی معاف نہ کرے۔ نہ یہ کہ ہر اختلاف کو اپنی توہین سمجھ لے۔
عزتِ نفس کا مطلب یہ ہے کہ انسان مسلسل بے اعتنائی کے باوجود اپنی قدر ثابت کرنے کے لیے کسی کے دروازے پر بار بار نہ جائے۔
اگر ایک تعلق ہمیشہ ایک ہی طرف سے چل رہا ہو تو کبھی کبھی خاموشی سے پیچھے ہٹ جانا بھی ضروری ہوتا ہے۔
ہر دروازے پر دستک دیتے رہنا انسان کی ذمہ داری نہیں۔
کچھ دروازے خود کھلتے ہیں، کچھ محبت سے کھولے جاتے ہیں اور کچھ دروازوں کے سامنے انسان کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ شاید یہ راستہ اس کے لیے نہیں۔
لیکن اس سارے عمل میں اخلاق نہیں چھوڑنے چاہئیں۔
ہمیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ کسی کی بے اعتنائی کے جواب میں ہم بھی اس کی تذلیل شروع کر دیں۔ اگر کوئی ہمیں اہمیت نہیں دیتا تو ہم اسے حقیر سمجھنے کے مجاز نہیں ہو جاتے۔
اپنی قدر بچانے کے لیے دوسروں کی قدر گھٹانا ضروری نہیں۔
یہی اصل وقار ہے۔
ایک باوقار شخص سب کو عزت دیتا ہے، مگر اپنی زندگی کے فیصلے ہر شخص کی خواہش کے مطابق نہیں کرتا۔
وہ مدد کرتا ہے، مگر اپنی استطاعت دیکھ کر۔
وہ محبت کرتا ہے، مگر اپنی ذات کو مٹا کر نہیں۔
وہ تعلق نبھاتا ہے، مگر اپنی عزتِ نفس قربان کر کے نہیں۔
وہ مصروف ہوتا ہے تو معذرت کر لیتا ہے، اور اگر کسی کو اس کی مصروفیت سمجھ نہیں آتی تو ہر بار خود کو مجرم بھی نہیں سمجھتا۔
ہمیں اپنی زندگی میں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر وقت دستیاب رہنا اچھا انسان ہونے کی شرط نہیں۔
اور ہر وقت دوسروں سے دور رہنا بھی بڑائی نہیں۔
اصل خوبی درمیان کا راستہ اختیار کرنے میں ہے۔
اپنے وقت کی قدر کریں، مگر دوسروں کے وقت کی بھی۔
اپنی عزت کا خیال رکھیں، مگر دوسروں کی عزت بھی۔
اپنی ترجیحات طے کریں، مگر ضرورت مند کے لیے دل بھی کھلا رکھیں۔
اور سب سے بڑھ کر اپنی توجہ کو وہاں خرچ کریں جہاں اس سے خیر پیدا ہو۔
اپنا وقت خاندان کو دیں، اپنے کام کو دیں، اپنے دوستوں کو دیں، ضرورت مندوں کو دیں، اپنے رب کو دیں اور کچھ وقت اپنے آپ کو سمجھنے کے لیے بھی رکھیں۔
کیونکہ اگر انسان ہر لمحہ دوسروں کے لیے جیتا رہے تو ایک دن اسے احساس ہوتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی کی کتاب میں اپنے لیے کوئی صفحہ چھوڑا ہی نہیں۔
لہٰذا کسی کی محبت کو اپنی کمزوری نہ بننے دیں اور اپنی مصروفیت کو تکبر نہ بننے دیں۔
تعلق رکھیں، مگر تعلق میں توازن رکھیں۔
لوگوں سے محبت کریں، مگر ان کی توجہ کے محتاج نہ بنیں۔
لوگوں کی مدد کریں، مگر اپنی زندگی کا سکون مکمل طور پر ان کے ہاتھ میں نہ دیں۔
اور اگر کبھی کوئی آپ کو لفٹ نہ کرائے تو اپنی قدر کم نہ سمجھیں۔
دنیا کی توجہ عارضی ہے، لوگوں کے رویے بدلتے رہتے ہیں، مگر کردار انسان کے ساتھ رہتا ہے۔
آخرکار انسان کی اصل پہچان یہ نہیں کہ کتنے لوگ اس کے فون کا انتظار کرتے ہیں، کتنے لوگ اسے دعوت دیتے ہیں یا کتنے لوگ اس کے گرد جمع رہتے ہیں۔
اصل پہچان یہ ہے کہ وہ تنہائی میں کیسا انسان ہے، اختیار میں کیسا رویہ رکھتا ہے، کمزور کے ساتھ کیسے پیش آتا ہے اور اپنے تعلقات میں کتنا مخلص ہے۔
اسی لیے زندگی کا ایک اصول ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے:
سب کی عزت کریں، مگر اپنی قدر کسی کے رویے سے متعین نہ ہونے دیں۔
اپنا وقت قیمتی سمجھیں، مگر اپنے اخلاق کو کبھی قیمتی بنا کر دوسروں سے دور نہ کریں۔
اور شاید اس پورے فلسفے کا خلاصہ یہی ہے:
اپنی قدر دوسروں کے ہاتھ نہ دیں
