باعث افتخار۔ انجینئر افتخار چودھری
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے رزق کا تعین کر رکھا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا” (سورة هود: 6)
“زمین پر چلنے والا کوئی بھی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ہاتھ میں نہ ہو۔”
یہ آیت ہمیں یقین دلاتی ہے کہ کوئی انسان بھوکا نہیں مرے گا، اور محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ یہ رزق کس قیمت پر اور کس راستے سے حاصل ہو رہا ہے۔ کچھ لوگ آسان رزق کے خواہاں ہیں، مگر اس کے بدلے عزت، اصول اور اخلاقیات کو قربان کر دیتے ہیں۔ کچھ لوگ محنت اور قربانی کے باوجود تنقید، سماجی دباؤ اور مشکلات میں پھنسے رہتے ہیں، مگر اصول پر قائم رہتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اصل صحافت اور حلال کمائی کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
پاکستان کی صحافت کا منظرنامہ ہمیں تلخ حقیقتیں دکھاتا ہے۔ صحافت صرف خبریں پہنچانے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مقدس ذمہ داری ہے: عوام کے مسائل کو اجاگر کرنا، حکمرانوں کے ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کرنا، اور اصول و دیانت کے ساتھ معاشرتی شعور پیدا کرنا۔ مولانا ظفر علی خان اور جوش کشمیری کی مثالیں آج بھی زندہ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے سب سے بڑے حصے مشکلات، دباؤ اور قید میں گزارے، مگر ہر حال میں اصولوں پر قائم رہے۔ ان کی صحافت کا مقصد صرف معلومات پہنچانا نہیں بلکہ سچائی، انصاف اور عوامی خدمت کے لیے ڈٹ جانا تھا۔
مولانا مودودی فرماتے ہیں کہ:
“ہر پیشہ اور شعبہ میں اصول اور دیانت کی پابندی انسان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ صحافت میں یہ اصولی پابندی نہ صرف پیشہ ورانہ اخلاق کی بنیاد ہے بلکہ معاشرے کی روشن راہ بھی ہے۔”
یہ بیان آج بھی ہماری صحافت کے لیے مشعل راہ ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کے بعض لوگ صحافت کو صرف ذاتی مفاد، شہرت اور فوری اثر و رسوخ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ وہ محنت، قربانی اور اصول کی قدر نہیں کرتے، بلکہ صرف اپنی ذات اور شہرت کے لیے کام کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مشکل روزی کی پہچان بہت اہم ہے۔ وہ لوگ جو اصول، دیانت اور عوام کی خدمت کے لیے محنت کرتے ہیں، انہیں ہر روز سماجی دباؤ، تنقید اور خطرے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے کام پر اکثر بے جا تنقید کی جاتی ہے، ان کی قربانی کو نظرانداز کیا جاتا ہے، اور ان کے مقام کی اہمیت کو نہیں سمجھا جاتا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو صبح سے شام تک جان و مال کی پرواہ کیے بغیر کام کرتے ہیں، سچائی کی خدمت کرتے ہیں، مگر بظاہر کم تعریف پاتے ہیں۔
آج کے میڈیا اور سوشل میڈیا کے اثرات نے حالات کو اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ہر کوئی فوری رائے دینے کے قابل ہے، ہر کوئی جارحانہ فیصلہ کر سکتا ہے، اور لوگ اکثر اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ ایسے میں وہ لوگ جو دیانت، اصول اور عوام کی خدمت کے لیے کام کر رہے ہیں، اکثر نادیدہ رہ جاتے ہیں۔ وہ لوگ جو تنازعہ، ڈرامائی مواد یا جلدی شہرت کے لیے کام کرتے ہیں، بظاہر نمایاں اور مقبول نظر آتے ہیں، مگر اصل صحافت کا معیار وہی ہے جو سچائی، اصول اور اخلاقیات کے ساتھ ہو۔
یہیں ہمیں ایک اور تلخ حقیقت یاد رکھنی چاہیے: کچھ لوگ بڑے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر جیسے فرید احمد پراچہ، ضیا شاہد، الطاف حسن اور قریشی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں، تو لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ جو بھی ان کی محفل میں بیٹھا ہوگا، وہ انہی کی طرح محترم ہوگا۔ لیکن یہ دنیا بڑی عجیب ہے، سادہ لوح لوگوں کو دھوکہ دے دیتی ہے، چاہے وہ پنڈی میں ہو یا مدینہ میں۔ یہ حقیقت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل عزت اور مقام کسی محفل یا ظاہری شہرت سے نہیں آتا بلکہ اصول، دیانت اور محنت سے حاصل ہوتا ہے۔
یہی اصل فرق ہے آسان اور مشکل روزی کے درمیان۔ آسان روزی صرف وہ نہیں جو بغیر خطرہ یا محنت کے مل جائے، بلکہ وہ ہے جو انسان کو عزت، سکون اور ضمیر کی تسکین دے۔ مشکل روزی وہ ہے جو انسان کو ہر دن سماجی دباؤ، تنقید اور مشکلات کے باوجود اصول پر قائم رہنے کا حوصلہ دے۔ مولانا ظفر علی خان اور جوش کشمیری نے یہی دکھایا کہ صحافت صرف شہرت یا مالی فائدے کے لیے نہیں بلکہ اصول، دیانت اور عوامی خدمت کے لیے بھی ہے۔
آج کے دور میں کچھ لوگ صحافت میں صرف ذاتی مفاد کے لیے کام کرتے ہیں اور اس سے صحافت کی ساکھ خراب ہو رہی ہے۔ وہ اصولوں اور اخلاقیات کی قدر نہیں کرتے، اور مشکل روزی کرنے والے حقیقی صحافیوں کی قربانی اور محنت کو بھی کم تر سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف میڈیا کی توجہ اور شہرت حاصل کرنا کامیابی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اصول اور سچائی کے بغیر صحافت کا مطلب صرف دھوکہ اور مکاری ہے۔
یہ کالم اس بات پر زور دیتا ہے کہ صحافت میں محنت اور اصول کی اہمیت کبھی کم نہیں ہونی چاہیے۔ آسان یا مشکل رزق کی پہچان صرف مالی فائدے سے نہیں ہوتی بلکہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کام کے ذریعے انسان اپنے ضمیر، اصول اور وقار کو کس حد تک قائم رکھتا ہے۔ مولانا ظفر علی خان اور جوش کشمیری نے یہ واضح کیا کہ حقیقی کامیابی صرف وہ ہے جو اصول، دیانت اور عوامی خدمت پر مبنی ہو۔
صحافت کی یہ حقیقت تلخ ہے کہ آج کے کچھ شعبے صرف تنازعہ، ڈرامہ اور جلدی کی شہرت کے لیے کام کر رہے ہیں۔ وہ اصول اور اخلاقیات کو نظرانداز کر دیتے ہیں، اور اس کے بدلے ذاتی فائدہ اور شہرت حاصل کرتے ہیں۔ ایسے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف میڈیا کی توجہ اور شہرت ہی کامیابی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اصول اور سچائی کے بغیر صحافت کا کوئی وقار نہیں۔
یہ کالم ایک انتباہ بھی ہے۔ صحافیوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ صرف ذاتی مفاد، شہرت یا اثر و رسوخ کے لیے کام کرنا قابل قبول نہیں۔ اصول، اخلاقیات اور عوام کی خدمت کے بغیر صحافت کا کوئی وقار نہیں۔ وہ لوگ جو اصولوں کو نظرانداز کرتے ہیں، وقتی کامیاب لگ سکتے ہیں، مگر حقیقی عزت اور کامیابی وہی ہے جو اصولوں، سچائی اور محنت کے ساتھ حاصل کی جائے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں ایسا رزق عطا فرمائے جو آسان بھی ہو، حلال بھی ہو، اور عزت و وقار کے ساتھ ہو۔ کیونکہ رزق ہر حال میں مل جاتا ہے، مگر اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ رزق انسان کو سر اٹھا کر جینے کا حوصلہ دے، اصولوں کے ساتھ جینے کی طاقت دے، اور سچائی کے راستے پر قائم رکھے۔
یہ کالم ایک علمی اور عملی سبق بھی ہے کہ صحافت صرف معلومات تک محدود نہیں بلکہ یہ اصولوں، اخلاقیات اور عوامی خدمت کا شعبہ ہے۔ ہر صحافی، چاہے لکھنے والا ہو یا اس کا تعلق دیگر شعبوں سے ہو، اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اصول اور اخلاقیات پر سمجھوتہ کرنا، عوام اور معاشرے کے ساتھ دھوکہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا ظفر علی خان اور جوش کشمیری آج بھی صحافت کی روشن مثالیں ہیں، اور ان کی قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مشکل رزق اصولوں اور دیانت کے ساتھ ہی اصل کامیابی ہے
