کرپٹ مافیا نے پنجاب کو بدنامیوں کے سِوا کچھ نہیں دیا لیاقت بلوچ

نائب امیر جماعتِ اسلامی لیاقت بلوچ نے جماعتِ اسلامی پنجاب کوآرڈی نیشن کمیٹی کے اجلاس سے صدارتی خطاب میں کہا کہ پنجاب ملک کا بڑا اور سیاسی لحاظ سے فیصلہ کُن حیثیت کا حامل صوبہ ہے۔ پنجاب کے عوام وسیع الظرف اور ملک کے تمام علاقوں، صوبوں سے تعلق رکھنے والے عوام کے لئے دیدہ و دل فرشِ راہ کرتے ہیں لیکن پنجاب پر قابض سِول ملٹری اسٹیبلشمنٹ، سرمایہ دار، جاگیردار، چوہدراہٹیں اور مفادپرست کرپٹ مافیا نے پنجاب کو بدنامیوں کے سِوا کچھ نہیں دیا۔ یہ بڑا المیہ ہے کہ وفاق ہائبرڈ نظام کی بالادستی کے ذریعے صوبوں میں مسلم لیگ، پی پی پی، پی ٹی آئی اور اِن کے اتحادیوں کے ذریعے تعصبات، علاقائیت کی آگ بھڑکائی جارہی ہے۔ جماعتِ اسلامی پنجاب کی سیاست کو حبّ دین، حب الوطنی کے جذبوں کے تحت مظلوم طبقات کو متحد اور متحرک کرکے عروج دینا چاہتی ہے۔ وفاق اور چاروں صوبوں میں آئین کی بالادستی کے ذریعے قومی وحدت، استحکام اور ترقی کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ کوآرڈی نیشن کمیٹی اجلاس میں ڈاکٹر طارق سلیم، محمد جاوید قصوری، سیـد ذیشان اختر، انجینئر نصراللہ رندھاوا، ضیاءالدین انصاری، زبیر صفدر، محمد اقبال خان، بابر رشید، ثناءاللہ سُرانی، اظہر بلال، خالد احمد بٹ، ہُما ایوب، رُسل خان بابر، عمران ظہور غازی، رشید احمد نے شرکت کی۔
کوآرڈی نیشن کمیٹی اجلاس نے مطالبہ کیا کہ پنجاب میں بااختیار بلدیاتی نظام اور بِلاتاخیر انتخابات کرائے جائیں۔ پنجاب حکومت بےاختیار بلدیاتی قانون واپس لے، الیکشن کمیشن آف پاکستان پنجاب اور اسلام آباد میں انتخابات کے انعقاد کا آئینی فرض ادا کرے، کوآرڈی نیشن کمیٹی نے وفاق اور پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ زراعت کُش حکمتِ عملی ترک کرے، گندم کے کاشت کاروں کو مکمل تباہی سے بچائے، زراعت کے بچاؤ کے لئے کھاد، بیچ، زرعی ادویات، بجلی، ڈیزل کی قیمتیں مناسب اور قابلِ برداشت بنائیں۔ کوآرڈی نیشن کمیٹی نے کراچی میں سندھ حکومت کی طرف سے جماعتِ اسلامی کے پُرامن سیاسی، جمہوری احتجاج پر ریاستی دہشت گردی، کریک ڈاؤن کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ گرفتار کارکنان فی الفور رہا کئے جائیں، کراچی کے عوام کو شہری حقوق کی محرومیوں اور ذلت سے نجات دِلانے کے لئے وہاں کے ووٹرز کی منتخب حقیقی بلدیاتی قیادت کو آگے آنے دیا جائے، زور زبردستی کی بنیاد پر مسلط میئر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ارکان عظیم اتحاد کا مظاہرہ کریں اور قابض، ناکام میئرشپ سے نجات دلوانے کے لئے اپنے ووٹ کا درست استعمال یقینی بنائیں۔ لیاقت بلوچ نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کی بیماری پر حکومت اور پی ٹی آئی سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہ کریں، عمران خان کے بہترین، بروقت علاج کو ترجیح دی جائے۔#