رمضان المبارک جہاں روحانی تزکیے اور عبادات کا مہینہ ہے وہاں یہ جسمانی صحت کے لئے بھی ایک امتحان بن سکتا ہے۔ ماہرین ِ صحت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اِس مقدس مہینے میں کم نمک اور کم چکنائی والی غذا استعمال کریں تاکہ دِل، گردوں اور شوگر جیسے امراض کے خطرات سے محفوظ رہا جا سکے۔ کراچی میں منعقدہ ایک آگاہی لیکچر میں ماہر امراضِ قلب نے زور دیا کہ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، دِل اور گردوں کے امراض میں مبتلا افراد رمضان سے قبل طبی معائنہ ضرور کروائیں۔ اُن کے مطابق بے احتیاطی سے افطار و سحر میں تلی ہوئی اور زیادہ نمکین غذاؤں کا استعمال دِل کی دھڑکن میں بے ترتیبی، ہارٹ اٹیک اور دیگر پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ ایسے مریض جنہیں حال ہی میں دِل کا دورہ پڑا ہو، شدید دِل کی کمزوری یا بے قابو شوگر ہو، اُنہیں اپنے معالج کے مشورے کے بغیر روزہ نہیں رکھنا چاہئے۔ ماہرین نے اِس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ رمضان میں ورزش نقصان دہ ہے، اُن کے مطابق ہلکی جسمانی سرگرمی، مثلاً تراویح کے بعد چہل قدمی، صحت کے لئے مفید ہے۔ مزید برآں، غذائی ماہرین نے افطار میں کھجور، پھل، سبزیاں اور فائبر سے بھرپور غذا لینے کی تلقین کی تاکہ جسم میں پانی اور توانائی کا توازن برقرار رہے۔ رمضان ہمیں اعتدال، ضبط ِ نفس اور سادہ طرزِ زندگی کا درس دیتا ہے، اِس ماہ کو دسترخوان کی رنگینی کے بجائے صحت مند عادات اپنانے کا ذریعہ بنایا جائے تو نہ صرف روحانی بلکہ جسمانی فوائد بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ رمضان کا حقیقی پیغام توازن اور احتیاط ہے، متوازن غذا صحت مند معاشرے کی بنیاد بن سکتی ہے۔
