بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہو گئی۔ وہاں کے الیکشن کمیشن نے 13ویں پارلیمانی انتخابات کے نتائج کا اعلان کیا، ملک بھر کے 300 میں سے 299 حلقوں میں ووٹنگ ہوئی جبکہ ایک حلقے میں انتخاب ملتوی کر دیا گیا۔ بی این پی نے 216 نشستیں حاصل کیں جبکہ جماعت اسلامی کی سربراہی میں قائم 11 جماعتی اتحاد (ہم خیال) کے حصے میں 70 سے زائد نشستیں آئیں۔ اِس اتحاد میں شامل سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ اُلٹنے میں اہم کردار ادا کرنے والی نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) صرف پانچ نشستوں پر کامیاب ہو سکی،خلافت مجلس پارٹی کو دو نشستیں ملیں جبکہ پانچ دیگر جماعتوں نے ایک، ایک نشست جیتی۔ سات نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن کے مطابق چٹاگانگ کے دو حلقوں کے نتائج اُس وقت تک جاری نہیں کیے جائیں گے جب تک کہ ایک مقدمے میں ہائیکورٹ میں دائر اپیل کا فیصلہ نہیں آ جاتا۔ واضح رہے کہ اِن انتخابات کے ساتھ آئینی اصلاحات سے متعلق ریفرنڈم بھی ہوا جس میں انتخابی ادوار کے دوران غیر جانبدار عبوری حکومت کے قیام،دو ایوانی پارلیمان، صدر کے اختیارات میں اضافہ، خواتین کی نمائندگی میں اضافہ، عدالتی خودمختاری کے فروغ اور وزیراعظم کے لئے دو مدتوں کی حد مقرر کرنے جیسی تجاویز شامل تھیں۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ ریفرنڈم میں چار کروڑ 80 لاکھ افراد نے ”ہاں“ میں ووٹ دیا جبکہ دو کروڑ 25 لاکھ 65 ہزار 627 افراد نے ”نہیں“ میں ووٹ دیا، ریفرنڈم کی حد تک چٹاگانگ کے مذکورہ دو حلقوں کے نتائج شامل کر لئے گئے۔ سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کے بیٹے اور بی این پی کے وزیراعظم کے امیدوار طارق رحمان کی جماعت بی این پی نے واضح اکثریت پر عوام سے خوشیاں منانے کے بجائے سجدہ شکر بجا لانے کی اپیل کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جماعت اسلامی نے سیاسی پختگی کا ثبوت دیتے ہوئے انتخابی نتائج میں شکست کو خوشدلی سے تسلیم کرتے ہوئے مخالفت برائے مخالفت کی بجائے ایک بامقصد اپوزیشن کا کردار نبھانے کا عزم ظاہر کیا۔جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان کا کہنا تھا کہ وہ مخالفت برائے مخالفت نہیں کریں گے، تعمیری اور عوام کے مفاد میں سیاست کو ترجیح دیں گے، اُن کا طرزِ عمل بنگلہ دیش کی سیاست میں مثبت اور اہم کردار کا حامل ہو گا۔دوسری جانب نیشنل سٹیزن پارٹی کے کنونیئر ناہید اسلام نے بھی جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔
صدر آصف علی زرداری نے بنگلہ دیش میں عام انتخابات کے کامیاب انعقاد پر عوام اور دو تہائی اکثریت حاصل کرنے پر بی این پی اتحاد اور متوقع وزیراعظم طارق رحمان کو مبارکباد دی۔ ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق صدرِ مملکت نے جمہوری شراکت داری اور باہمی ترقی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے ساتھ مضبوط تعاون جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں انتخابات جنوبی ایشیاء کے لئے ماضی کے مراحل سے آگے بڑھنے کا ایک موقع ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سربراہ طارق رحمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور اُنہیں انتخابی کامیابی پر مبارکباد دی۔ وزیراعظم آفس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے نہ صرف باہمی دلچسپی اور خطے کے اَمن اور ترقی کے امور پر تبادلہ خیال کیا بلکہ مستقبل میں رابطے میں رہنے اورعوامی فلاح کے لئے مل کرکام کرنے پر اتفاق کیا۔ اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے طارق رحمان کو جلد پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔یاد رہے کہ انتخابات کے دوران حسینہ واجد کی عوامی لیگ پر پابندی عائد کر دی گئی تھی اِس لئے وہ پہلی مرتبہ قومی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکی۔ بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق 1991ء کے بعد یہ پہلا الیکشن ہے جب بنگلہ دیش میں پارلیمانی جمہوریت کی واپسی ہوئی ہے اور یہ پہلا انتخاب تھا جو دو سابق وزرائے اعظم خالدہ ضیاء اور شیخ حسینہ کے بغیر ہوا۔ طارق رحمان سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم مرحومہ خالدہ ضیاء کے بیٹے ہیں جو قریباً 17 سال لندن میں جلاوطنی کاٹنے کے بعد شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دسمبر 2025ء میں ڈھاکہ واپس آئے تھے۔ اُنہیں 2007ء میں بنگلہ دیش کی فوجی حمایت یافتہ نگران حکومت کے دور میں کرپشن کے الزامات پر گرفتار کیا گیا تھا، انہوں نے 18 ماہ جیل میں گزارے اور پھر ستمبر 2008ء میں رہا ہونے کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ لندن منتقل ہو گئے تھے۔ حالیہ انتخابات سے قبل اور خالدہ ضیاء کی وفات کے ایک ماہ بعد اُنہیں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کا چیئرمین نامزد کیا گیا تھا۔ اُنہوں نے پہلی بار اِس جماعت کی انتخابی مہم کی قیادت کی، بھرپور طریقے سے انتخابی مہم چلائی اور تنظیمی سرگرمیوں کی قیادت بھی کی۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ طارق رحمان کی حکومت کو معیشت کی بہتری، سلامتی کے تحفظ اور اصلاحات کے عمل کو جاری رکھنے جیسے بڑے چیلنج درپیش ہوں گے۔ اُنہوں نے قانون کی حکمرانی مالی نظم و ضبط اور ملک کو متحد کرنے کو اپنی اولین ترجیحات قرار دیا۔ وہ 2024ء کی عوامی بغاوت کے بعد پیدا شدہ سیاسی اور سماجی دراڑیں دور کرنے، معیشت کی بحالی، نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع اور بیرون ملک مقیم مزدوروں کی استعداد بڑھانے کے منصوبے رکھتے ہیں۔ علاقائی اور عالمی تعلقات کے لئے وہ بھارت اور امریکہ کے ساتھ تجارتی اور سفارتی تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔ اُن کے لئے سب سے بڑا چیلنج پاکستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں توازن رکھنا رہے گا، بنگلہ دیشی عوام میں بھارت کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے تاہم قریب ترین ہمسایہ ہونے کے ناتے بھارت سے تعلقات کی نوعیت بنگلہ دیش کے لئے انتہائی اہمیت رکھتی ہے خاص طور پر جب اُس کے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتری کے راستے پر ہیں،دونوں ممالک کے عوام نہ صرف دفاعی معاہدے بلکہ کنفیڈریشن کی خواہش کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش کے عوام نے اپنا فیصلہ سُنا دیا ہے، بین الاقوامی مبصرین نے مجموعی طور پر اِن انتخابات پر اطمینان کا اظہار کیا، ایک جمہوری اور پارلیمانی نظام نئے سفر کا آغاز کرنے جا رہا ہے جو بنگلہ دیش کو ایک بہتر، پُرامن اور روشن مستقبل کی طرف لے جائے گا۔ اُمید کی جا سکتی ہے کہ نئی حکومت اور وزیراعظم عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے اور اُن تمام اصلاحات کو عملی شکل دیں گے جن کے حق میں عوام نے ریفرنڈم کے ذریعے اپنا فیصلہ سنایا ہے۔بنگلہ دیش کی سیاسی ترقی بغاوتوں، قتل و غارت اور فوجی و سویلین حکومتوں کے ادوار کے درمیان تبدیلیوں سے متاثر رہی ہے۔ ملک کے بانی صدر شیخ مجیب الرحمان کو 1975 میں قتل کر دیا گیا، جس کے بعد کئی سال تک فوجی حکمرانی رہی۔
ضیاء الرحمان، جو بی این پی کے بانی تھے، 1981 میں اپنے قتل تک صدر کے عہدے پر فائز رہے، جبکہ حسین محمد ارشاد نے 1982 سے 1990 تک فوجی آمریت قائم رکھی۔
1991 میں جمہوریت بحال ہوئی اور خالدہ ضیاء ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں، اس کے بعد اگلے دو عشروں تک شیخ حسینہ اور خالدہ ضیاء باری باری اقتدار میں آتی رہیں۔
2009 سے شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ نے سیاسی غلبہ مضبوط کیا، جس نے 2018 میں 300 اور 2024 میں 272 نشستیں جیتیں، ان انتخابات پر اپوزیشن کو دبانے اور شفافیت کی کمی کے الزامات بھی لگائے گئے۔
2026 کے انتخابات ایک اہم موڑ سمجھے جا رہے ہیں کیونکہ کئی دہائیوں میں پہلی بار دو بڑی سیاسی جماعتیں شیخ حسینہ کی شمولیت کے بغیر مقابلہ کریں گی جبکہ لاکھوں نئے اور نوجوان ووٹرز کی شمولیت کے باعث نتائج بنگلہ دیش کے سیاسی منظرنامے کو تبدیل کر سکتے ہیں۔
