کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کیں اور وہاں پر قبضہ کر لیا

سید جاوید الرحمن ترابی

پاکستان میں بسنے والے ہر مسلمان پر یہ فرض ہے کہ جس طرع وہ ہر وقت یہ یاد رکھتا ہے کہ زندہ رہنے کے لئے سانس لینا ہے اسی طرع وہ یہ بھی یاد رکھے کہ کشمیر میں بسنے والے مظلوم بھائیوں کے لئے کچھ کرنا بھی سانس لینے جتنا ہی ضروری ہے۔ 27 اکتوبر 1947 سے 27 اکتوبر 2025 تک آج 78 سال ہو گئے ہیں کہ غاصب بھارت نے مہاراجہ کشمیر سے الحاق کی دستاویزات پر زبردستی دستخط کروا کے کشمیر کے مسلمانوں کی واضح اکثریت اور امنگوں کے برعکس کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کیں اور وہاں پر قبضہ کر لیا۔ اس وقت پاکستان کے غیور اور بہادر عوام نے کشمیر میں داخل ہو کر کشمیری بھائیوں کے ساتھ مل کر کشمیر کی آزادی کی جنگ بغیر بظاہر وسائل کے کچھ ایسے جذبوں سے لڑی کہ اس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے اس وقت قائد اعظم محمد علی جناح کے واضح حکم کے باوجود جنرل گریسی نے کشمیر میں پاکستانی افواج نہ بھجوائیں لیکن حریت پسند کشمیری بھائیوں نے پاکستانی بھائیوں کے ساتھ مل کر دشمن کو ہر ہر جگہ شکست فاش دی اور قریب تھا کہ کشمیری عوام پورے کشمیر کو آزاد کروا لیتے کہ بھارت ڈر کے مارے خود ہی مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے گیا اور اقوام متحدہ نے کشمیری عوام کے لئے استصواب رائے کے حق کی یاد دہانی کرواتے ہوئے قراردادیں منظور کیں کہ کشمیری عوام کو حق استصواب رائے دیا جائے گا کہ وہ خود یہ فیصلہ کر سکیں کہ انہوں نے کسی ملک کا حصہ بننا ہے یا آزاد رہنا ہے۔ اور ساتھ ہی کشمیر میں اقوام متحدہ نے جنگ بندی بھی کروا دی جس کے نتیجہ میں کشمیر کا کچھ حصہ آزاد کشمیر بن گیا اور کچھ حصہ مقبوضہ کشمیر بن گیا۔ اس وقت پاکستان نے یہ غلطی کی کہ حیدرآباد دکن اور جونا گڑھ پر ان کے پاکستان میں شامل ہونے کے فیصلے کے باوجود بھارت کے قبضے کو ختم نہ کروایا۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر 1947ئسے ظلم و ستم کا سلسلہ دراز کر رکھا ہے لیکن سب ظلم و ستم کے باوجود اقوام متحدہ کی قراردادوں کی وجہ سے کشمیر کی خصوصی حیثیت 5 اگست 2019 تک برقرار رہی جسے بھارتی حکمرانوں نے پاکستانیوں کی خاموشی اور اقوام متحدہ کی مجرمانہ خاموشی کی وجہ سے 5 اگست 2019 کو ختم کر دیا۔ مسلمانوں کا مسئلہ خواہ فلسطین کا ہو، خواہ برما کا، خواہ کشمیر کا جہاں بھی ظلم مسلمانوں پر ہو رہا ہو وہاں پر ”اقوام متحدہ صرف اور صرف مردہ قراردادوں کا ایک عجائب گھراور ہے بس نظر آتی ہے“۔ہمیں آج 27 اکتوبر 2025ء کے دن اپنی نوجوان نسل اور اپنے مستقبل کو یہ بتانا ہے کہ کشمیر جنت نظیر پر بھارتی غاصبانہ قبضہ کیسے ہوا۔ کشمیر کو قائداعظم محمد علی جناح نے بھی پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اورکشمیر پاکستان کی آج بھی لائف لائن ہے۔ ہم نے بہت بڑی کوتاہی یہ کی ہے کہ اپنی موجودہ نسل کو ہم نے 27 اکتوبر 1947ء کے حوالے سے شاید کچھ بتایا ہی نہیں اور آج شاید بہت سے ہمارے بچوں کو یہ پتہ تک نہیں ہے کہ 27 اکتوبر 1947ء تاریخ کا کتنا سیاہ ترین دن ہے جب عوام کی مرضی کے خلاف ایک مہاراجہ سے الحاق کی دستاویز پر دستخط کروا کے کشمیر پر بھارت نے غاصبانہ قبضہ کر لیا تھا۔قارئین گرامی حیدرآباد دکن اور جونا گڑھ کے مسلمان حکمرانوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا تھا لیکن بھارت نے اس بنیاد پر کہ وہاں کے حکمران وہاں کے عوام کا فیصلہ نہیں کر سکتے، زبردستی حیدرآباد اور جونا گڑھ ہر قبضہ کر لیا۔ اس طرع بھارت نے وہ 2 ریاستیں پاکستان سے لے لیں اس وقت ہمارا فرض تھا کہ ہم کشمیری عوام کی امنگوں کے خلاف مہاراجہ کی دستاویز الحاق کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے اور فوری طور پر کشمیر کو پاکستان میں شامل کرتے لیکن انگریز بھی ہمارے دشمن ہی تھے کیونکہ انہوں نے پہلے تو ریڈکلف ایوارڈ کے ذریعے باقاعدہ منصوبہ بندی سے بد نیتی کر کے بھارت کو کشمیر میں داخل ہونے کا راستہ دیا اور پھر انگریز جنرل گریسی نے قائداعظم محمد علی جناح کے واضح حکم کے باوجود پاکستانی افواج کشمیر میں نہ بھجوائیں۔ اگرچہ انگریز ریڈ کلف ایوارڈ اور جنرل گریسی کی طرف سے قائداعظم کی حکم عدولی کے ذریعے ہمیں واضح پیغام دے چکے تھے کہ وہ مسلمانوں کے دشمن ہیں اور دشمن رہیں گے۔ اس کے باوجود ہم نے اقوام متحدہ پر اعتبار کرتے ہوئے کشمیر میں جنگ بندی قبول کر لی جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے استصواب رائے والی اپنی قراردادوں پر بالکل بھی عمل نہیں کروایا اور نہ ہی بھارت پر کوئی پابندیاں لگائیں اور بھارت نے 5 اگست 2019ء کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ہی ختم کرنے کی خباثت کر ڈالی جسے بد قسمتی سے ہم بھولتے جا رہے ہیں