باعث افتخار
انجنیئر افتخار چودھری
دبئی جو آج چشمِ عالم میں جدیدیت، رفعت اور برق رفتار ترقی کے استعارے کے طور پر ابھرا ہے، کبھی محض ایک گمنام، خاموش اور سادہ سا ماہی گیر گاؤں تھا۔ اس شہرِ طلسمات کی تاریخ اس حقیقت کی روشن گواہی دیتی ہے کہ یہ محض کنکریٹ اور شیشے کی بلند و بالا عمارتوں کا کوئی بے جان مجموعہ نہیں، بلکہ ایک اولوالعزم وژن، پیہم جدوجہد اور بصیرت افروز قیادت کے خوابوں کی وہ تعبیر ہے جس نے ریگزاروں کو گلزاروں میں بدل دیا۔ اگر ہم ماضی کے جھروکوں سے اس خطے کا نظارہ کریں، تو قدیم زمانوں میں یہ خطہ خلیج فارس کے تپتے ہوئے کناروں پر آباد ان چھوٹے قبائل کا مسکن تھا جن کی کائنات سمندر کی لہروں اور صحرا کی وسعتوں تک محدود تھی۔ یہاں کے باسی تپتی دھوپ میں مچھلیوں کے شکار، سمندر کی اتھاہ تہوں سے موتی نکالنے اور نہایت محدود پیمانے پر اونٹوں کے ذریعے تجارت کر کے گزر بسر کرتے تھے۔ اس دور میں زندگی مشقت کا دوسرا نام تھی؛ جہاں میٹھے پانی کی بوند بوند کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی تھی اور شدید گرمی کے تھپیڑے انسانی عزم کا امتحان لیتے تھے۔ مگر ان جفاکش لوگوں نے قناعت اور ہمت کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ انیسویں صدی کے آغاز میں جب آل مکتوم خاندان نے اس سر زمین کی باگ ڈور سنبھالی، تو درحقیقت یہی وہ تاریخی موڑ تھا جہاں سے ایک منظم سماجی اور سیاسی ڈھانچے کی بنیاد پڑی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دبئی کی چھوٹی سی بندرگاہ نے خطے میں اپنی ایک الگ شناخت بنانا شروع کی اور ایران، برصغیر اور قریبی عرب ریاستوں سے آنے والے تاجروں نے اس قصبے کو ایک ابھرتے ہوئے تجارتی مرکز کی حیثیت دے دی۔
وقت کا پہیہ اپنی پوری رفتار سے گھومتا رہا اور دبئی نے کئی نشیب و فراز دیکھے۔ 1930 کی دہائی میں جب مصنوعی موتیوں کی ایجاد نے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچائی اور عالمی معاشی کساد بازاری نے دستک دی، تو موتیوں کی تجارت پر انحصار کرنے والی مقامی معیشت بری طرح متاثر ہوئی۔ یہ ایک ایسا کڑا وقت تھا جس نے یہاں کے حکمرانوں اور عوام کو نئے راستے تلاش کرنے پر مجبور کیا۔ تاہم، یہی وہ آزمائش تھی جس نے مستقبل کی پائیدار بنیادیں فراہم کیں اور ثابت کیا کہ قومیں صرف وسائل سے نہیں بلکہ ارادوں سے بنتی ہیں۔ سن 1966 میں تیل کی دریافت نے اس صحرا کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن یہاں کی قیادت کی عظمت یہ تھی کہ انہوں نے تیل کی دولت کو عارضی تعیش کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے مستقل قومی تعمیرِ نو کے ایک عظیم الشان منصوبے کا ایندھن بنایا۔ شیخ راشد بن سعید آل مکتوم، جنہیں جدید دبئی کا معمار کہا جاتا ہے، وہ ایک ایسے دوراندیش حکمران تھے جنہوں نے اس وقت “دبئی کریک” کی کھدائی اور اسے چوڑا کرنے کا جرأت مندانہ فیصلہ کیا جب ریاست کے پاس وسائل کی شدید قلت تھی۔ ان کا یہ قول تاریخ کا حصہ بن چکا ہے کہ “میرا دادا اونٹ پر سوار تھا، میرا باپ اونٹ پر سوار تھا، میں مرسڈیز چلاتا ہوں، میرا بیٹا لینڈ روور چلائے گا، اس کا بیٹا لینڈ روور چلائے گا، لیکن اس کا بیٹا پھر اونٹ پر سوار ہو گا۔” اس جملے میں پوشیدہ فکر یہ تھی کہ تیل ختم ہو جائے گا، اس لیے معیشت کی بنیادیں تجارت اور سیاحت پر ہونی چاہئیں۔ چنانچہ سڑکوں کا جال بچھایا گیا، جدید بندرگاہیں تعمیر ہوئیں اور ہوائی اڈوں کی بنیاد رکھی گئی تاکہ دبئی کو دنیا کا گیٹ وے بنایا جا سکے۔
پھر 1971 میں متحدہ عرب امارات کے قیام نے دبئی کو وہ سیاسی استحکام اور معاشی پلیٹ فارم مہیا کیا جس نے اسے عالمی نقشے پر ایک ناقابلِ تسخیر قوت بنا دیا۔ بعد ازاں، شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کی قیادت میں ترقی کے اس سفر نے وہ جہتیں اختیار کیں جن کی مثال انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ انہوں نے ناممکن کو ممکن کر دکھانے کا ہنر دکھایا۔ جب دنیا کا بلند ترین ٹاور “برج خلیفہ” بنانے کی بات ہوئی یا سمندر کا سینہ چاک کر کے “پام جمیرا” جیسے مصنوعی جزیرے تعمیر کرنے کا ارادہ کیا گیا، تو ناقدین نے اسے دیوانے کا خواب قرار دیا، مگر آج یہی شاہکار دنیا بھر سے کروڑوں سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ سیاحت، رئیل اسٹیٹ، مالیاتی خدمات اور ہوابازی جیسے شعبوں میں ایسی بے مثال پیش رفت ہوئی کہ دبئی آج عالمی معیشت کا دھڑکتا ہوا دل بن چکا ہے۔ یہ شہر اب محض ایک تجارتی مرکز نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور مستقبل کے جدید ترین علوم کا گہوارہ بن چکا ہے۔ یہاں کی شاہراہیں، جہاں کبھی اونٹوں کے قافلے گزرتے تھے، آج دنیا کی تیز رفتار ترین گاڑیوں اور جدید میٹرو سسٹم سے آراستہ ہیں۔
آج کے پر آشوب دور میں جب عالمی سیاست کے بساط پر نئی نئی چالیں چلی جا رہی ہیں اور ایران، امریکہ اور اسرائیل کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ کے افق پر سیاہ بادل چھا رکھے ہیں، تو ایسے میں بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ بھی سامنے آتا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں موجود غیر ملکی فوجی اڈوں کا انخلا کیا جائے۔ تاہم، ایک مدبرانہ اور حقیقت پسندانہ نگاہ سے دیکھا جائے تو ریاست کی دفاعی اور خارجہ پالیسی ہمیشہ وسیع تر اسٹریٹجک مفادات کے تحت ترتیب دی جاتی ہے۔ عالمی طاقتوں کے ساتھ دفاعی تعاون محض کسی ایک ملک کی حمایت یا مخالفت نہیں، بلکہ یہ پورے خطے کے استحکام، بین الاقوامی سمندری تجارتی راستوں کے تحفظ اور اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کا ایک ناگزیر ذریعہ ہے۔ یو اے ای کی قیادت بخوبی جانتی ہے کہ معاشی ترقی کے لیے امن پہلی شرط ہے، اور امن کے قیام کے لیے بعض اوقات عالمی توازن برقرار رکھنا پڑتا ہے۔ اس لیے ایسے حساس اور دور رس فیصلے جذباتی نعروں یا عوامی دباؤ کے بجائے ہمیشہ طویل المدتی قومی سلامتی اور علاقائی امن کو مقدم رکھ کر ہی کیے جاتے ہیں۔ یہی وہ سفارتی بصیرت ہے جس نے دبئی کو جنگ و جدل سے بھرے اس خطے میں “امن کا جزیرہ” بنائے رکھا ہے۔
دبئی اور متحدہ عرب امارات کا ایک اور پہلو جو اسے دنیا کی دیگر ریاستوں سے ممتاز کرتا ہے، وہ اس کا منفرد اور ہمہ گیر سماجی ماڈل ہے۔ یہاں کے بڑے بڑے عوامی مقامات، عالی شان بندرگاہوں اور سرکاری اداروں کی پیشانیوں پر یہ پیغام کسی نقشِ کالِحجر کی طرح ثبت ہے کہ اس سرزمین پر رہنے والا ہر فرد، خواہ وہ ملک کا بااثر شہری ہو یا دور پار کے کسی پسماندہ گاؤں سے آیا ہوا کوئی مزدور، قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ یہ مساوات محض اشتہاری نعروں تک محدود نہیں بلکہ یہ یہاں کی عملی زندگی اور عدالتی نظام کا اٹوٹ حصہ ہے۔ آج جب ہم دبئی کی سڑکوں پر چلتے ہیں تو ہمیں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، فلپائن، مصر، یورپ اور امریکہ سمیت دنیا کے تقریباً ہر خطے سے آئے ہوئے لاکھوں نفوس نظر آتے ہیں۔ مختلف زبانوں، رنگوں، ثقافتوں اور عقیدوں کے حامل یہ لوگ ایک ایسے آہنی اور مربوط نظام کے تحت زندگی گزار رہے ہیں جہاں کسی کو دوسرے کی حق تلفی کی جرات نہیں ہوتی۔ یہاں کی کامیابی کا ایک بڑا راز یہ ہے کہ ریاست نے غیر ملکیوں کو صرف “مزدور” نہیں سمجھا بلکہ انہیں اپنی ترقی کا حصہ دار بنایا ہے۔ یو اے ای نے دنیا بھر کے بہترین دماغوں اور ہنر مندوں کو اپنے ساتھ جوڑے رکھنے کے لیے چند سنہری اصول وضع کیے ہیں، جن میں قانون کی بلاامتیاز عملداری، روزگار کے وسیع اور شفاف مواقع، خواتین کے لیے محفوظ ماحول، اور جدید ترین شہری سہولیات کی فراہمی سرفہرست ہیں۔ اسی وجہ سے آج ایک عام محنت کش سے لے کر ارب پتی سرمایہ کار تک، ہر طبقہ یہاں خود کو محفوظ اور معتبر محسوس کرتا ہے۔
پاکستانی برادری کا ذکر کیے بغیر دبئی کی ترقی کا تذکرہ ادھورا ہے۔ ہماری قوم کے لاکھوں جفاکش انجینئرز، ڈاکٹرز، تاجر اور محنت کشوں نے اپنی زندگی کے بہترین سال اس ریگستان کو نخلستان بنانے میں صرف کیے ہیں۔ ان کے خون پسینے کی مہک یہاں کی بلند و بالا عمارتوں اور وسیع شاہراہوں میں رچی بسی ہے۔ یہ لوگ نہ صرف پاکستان کے لیے کثیر زرمبادلہ بھیج کر اپنی قومی معیشت کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں بلکہ وہ دبئی کے سماجی تانے بانے کا بھی ایک اہم حصہ بن چکے ہیں۔ یہاں کی قیادت نے ہمیشہ پاکستانیوں کی محنت اور لگن کا اعتراف کیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کی بنیاد ہے۔ اگر ہم اپنی آنکھوں دیکھے دبئی کے ماضی اور حال کا غیر جانبدارانہ موازنہ کریں تو یہ تغیر کسی طلسماتی معجزے سے کم نہیں لگتا۔ جہاں کبھی خاموشی کا راج تھا، آج وہاں چوبیس گھنٹے زندگی کی رونقیں بکھری رہتی ہیں۔ جہاں کبھی تپتی ہوئی ریت کے ٹیلے بصارت کو تھکاتے تھے، آج وہاں سرسبز باغات اور دنیا کے جدید ترین انسانی شاہکار بصیرت کو جلا بخشتے ہیں۔ یہ سب کچھ صرف زیرِ زمین سے نکلنے والے تیل کا مرہونِ منت نہیں، کیونکہ تیل تو بہت سے دیگر ممالک کے پاس بھی ہے، مگر وہ اس طرح کی ترقی حاصل نہ کر سکے۔ یہ دراصل ایک واضح حکمت عملی، بے لچک نظم و ضبط اور قیادت کے اس پختہ یقین کا ثمر ہے کہ “مستقبل ان کا ہوتا ہے جو اسے آج ہی سے دیکھ لیتے ہیں”۔
تحریر کے اختتام پر یہ کہنا بجا ہوگا کہ دبئی کی بے مثال کامیابی کی اصل اساس اس کا وہ جامع وژن اور ہمہ گیر پالیسی ہے جس نے دنیا بھر کے انسانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے انہیں ترقی کے یکساں مواقع فراہم کیے۔ یہاں کی قیادت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور وژن واضح، تو صحرا کی ریت سے بھی سونا اگایا جا سکتا ہے۔ آج متحدہ عرب امارات نہ صرف مادی ترقی اور جدیدیت کا بلند مینار ہے، بلکہ یہ رواداری، مذہبی ہم آہنگی اور عالمی امن کی ایک ایسی روشن مثال بن چکا ہے جس کی تقلید آج کی بکھری ہوئی دنیا کے لیے بے حد ضروری ہے۔ یہ شہر ہمیں سکھاتا ہے کہ مختلف الخیال لوگ اگر ایک ضابطے اور قانون کے تحت اکٹھے ہو جائیں، تو وہ مل کر ایک ایسی جنت ارضی تعمیر کر سکتے ہیں جہاں ہر نسل اور ہر رنگ کے انسان کے لیے ترقی، تحفظ اور خوشحالی کے دروازے کھلے ہوں۔ دبئی کی یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی، بلکہ یہ تو اس نئے عہد کا آغاز ہے جہاں زمین کی وسعتیں کم پڑ رہی ہیں اور اب اس کی نظریں خلاؤں اور ستاروں کی تسخیر پر لگی ہوئی ہیں۔ یہ بلاشبہ انسانی عزم و ہمت کی وہ داستان ہے جو رہتی دنیا تک آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے گی
