وطنِ عزیز: ایک ہی ریڈ لائن

وطنِ عزیز: ایک ہی ریڈ لائن
ڈاکٹر عمران مجید

پاکستان کی تاریخ مسلسل آزمائشوں، تغیرات اور چیلنجز سے عبارت رہی ہے۔ گزشتہ نصف صدی کے دوران ملک نے ایسے کئی اہم موڑ دیکھے جنہوں نے نہ صرف ریاستی ڈھانچے بلکہ قومی شعور کو بھی متاثر کیا۔ 1971 کا سانحہ، ذوالفقار علی بھٹو کا عروج و زوال، جنرل ضیاء الحق کا مارشل لا، اسی اور نوے کی دہائیوں میں جمہوریت کی غیر یقینی کیفیت، جنرل پرویز مشرف کا مادر پدر آزاد مارشلا، اور 2008 کے بعد کا کمزور جمہوری تسلسل—یہ سب ہماری اجتماعی تاریخ کے نمایاں ابواب ہیں۔

ان ادوار میں عدالتی فعالیت(judicial Activism)، “سیم پیج” کی بحث، انتخابی شفافیت پر سوالات، آر ٹی ایس اور فارم 47 جیسے معاملات نے سیاسی عدم استحکام کو مزید اجاگر کیا۔ نتیجتاً ایک ایسا تاثر ابھرا کہ پاکستان اکثر اندرونی اختلافات اور کمزوریوں کا شکار رہا ہے۔

تاہم، اس تصویر کا ایک مثبت اور طاقتور پہلو بھی ہے۔ جب بھی ملک کو بیرونی خطرات کا سامنا ہوا، قوم نے غیر معمولی اتحاد اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ 28مئی 1998 اس کی ایک روشن مثال ہے، جب شدید بین الاقوامی دباؤ اور داخلی سیاسی اختلافات کے باوجود پاکستان نے ایٹمی طاقت بننے کا تاریخی فیصلہ کیا۔ یہ لمحہ اس بات کا غماز تھا کہ قومی سلامتی کے معاملات میں پاکستانی قوم اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک ہو جاتی ہے۔

اسی تسلسل میں، حالیہ برسوں میں بھارت کے ساتھ پیش آنے والا معرکۂ حق بھی قابلِ ذکر ہے، جہاں کشیدہ صورتحال کے باوجود پاکستان نے ذمہ داری، حکمت اور جرات کا مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر نہ صرف مسلح افواج نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا بلکہ پوری قوم یک زبان ہو کر اپنے دفاع کے لیے کھڑی نظر آئی۔ یہ اس حقیقت کا عملی اظہار تھا کہ پاکستان بیرونی خطرات کے سامنے “بنیان المرصوص” بن جاتا ہے۔

موجودہ عالمی صورتحال اس حقیقت کو مزید اہم بنا دیتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حالیہ حملوں نے ایک نئے بحران کو جنم دیا ہے۔ اگر اس تنازع کو دانشمندی اور سفارتی بصیرت سے نہ سنبھالا گیا تو اس کے اثرات خطے سے نکل کر عالمی سطح تک پھیل سکتے ہیں۔

ایسے حساس وقت میں پاکستان کا کردار نہایت اہم ہے۔ اب تک سول و عسکری قیادت نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ تاہم، داخلی سطح پر ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو دانستہ یا نادانستہ طور پر اشتعال انگیزی کو فروغ دے رہے ہیں۔ یہ طرزِ عمل قومی مفاد کے خلاف ہے اور اس سے اجتناب ضروری ہے۔

آج سب سے بڑی ضرورت قومی ترجیحات کے واضح تعین کی ہے۔ سیاسی اختلافات جمہوریت کا حصہ ضرور ہیں، لیکن جب یہ اختلافات قومی سلامتی پر اثر انداز ہونے لگیں تو ان پر نظرثانی لازم ہو جاتی ہے۔ پاکستان کے 25 کروڑ عوام کے لیے ایک ہی “ریڈ لائن” ہونی چاہیے—اور وہ ہے ملک کی سالمیت، خودمختاری اور استحکام۔

تاریخ گواہ ہے کہ داخلی انتشار قوموں کو کمزور کر دیتا ہے، جبکہ اتحاد انہیں ناقابلِ شکست بناتا ہے۔ پاکستان کو بھی اسی اصول کو اپنانا ہوگا۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنی سرزمین کو کسی بیرونی تنازع کا میدان نہیں بننے دیں گے، اور ہر قسم کی داخلی و خارجی چیلنجز کا متحد ہو کر مقابلہ کریں گے۔

اگر ہم ایک باوقار اور مستحکم قوم کے طور پر اپنا مقام مستحکم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اجتماعی شعور، اتحاد اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ایک محفوظ اور روشن مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

خونِ دل دے کر نکھاریں گے رخِ برگِ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے