مسلم اْمہ کا اتحاد نہایت اہم

syed javid urehman trabi

نائب وزیرِاعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی میزبانی کرے گا، مشترکہ چیلنجوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے موجودہ مشکل حالات میں مسلم اْمہ کا اتحاد نہایت اہم ہے، عالمی برادری نے پاکستان کی اَمن کیلئے کی جانے والی کوششوں کو سراہا ہے، ایران اور امریکہ دونوں ہی نے مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اْن کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ علاقائی صورتحال پر پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے درمیان ہونے والے مشاورتی اجلاس میں تفصیلی اور نتیجہ خیز بات چیت کے بعد خطے میں جاری تنازعات کے جلد اور مستقل خاتمے پر زور دیا گیا جبکہ چاروں وزرائے خارجہ کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں انتہائی مثبت اور مفید رہیں اِن ملاقاتوں میں خطے کی مجموعی صورتحال، اَمن و استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسلام آباد میں ہونے والے چار ملکی مشاورتی عمل کے دوسرے اجلاس کے متعلق اْن کا کہنا تھا کہ پہلا اجلاس 19 مارچ کو منعقد ہوا تھا جس میں موجودہ علاقائی کشیدگی، انسانی جانوں کے نقصان اور معاشی اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اْن کا کہنا تھا کہ جاری تنازعہ انتہائی افسوسناک ہے کیونکہ اِس کے اثرات پورے خطے میں عوام کی زندگیوں اور معیشت پر پڑ رہے ہیں۔ ممکنہ امریکہ ایران مذاکرات کے حوالے سے تینوں مہمان وزرائے خارجہ نے پاکستان میں ہونے والے ایسے تمام سفارتی اقدامات کی مکمل حمایت کا اظہار کیا جن کا مقصد کشیدگی میں کمی، عسکری تصادم کے خطرات کو کم کرنا اور بامعنی مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنا ہو۔ اْن کا مزید کہنا تھا کہ وزیرِاعظم شہبازشریف کی قیادت میں پاکستان مسلسل علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہے اور تنازعہ کے خاتمے کے لیے ہر ممکن سفارتی کوشش میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ اْنہوں نے یہ بھی کہا کہ حالیہ دنوں میں اْن کی اقوامِ متحدہ کے سیکرِٹری جنرل انتونیو گوتریس سمیت مختلف عالمی رہنماؤں سے ٹیلیفون پر تفصیلی گفتگو بھی ہوئی جس میں پاکستان کی طرف سے کی جانے والی اَمن کی کوششوں کی مکمل حمایت کا یقین دلایا گیا۔ اسحاق ڈار کے مطابق اْنہوں نے دنیا کے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے بھی رابطے کیے ہیں تاکہ جاری تنازعے کے مستقل اور پائیدار حل کے لیے عالمی حمایت حاصل کی جا سکے۔ اِس سے قبل مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کو روکنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں اہم بیٹھک ہوئی جس میں پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ اجلاس نائب وزیرِاعظم کی دعوت پر ہوا جس میں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام اَمن کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا چاروں وزرائے خارجہ نے آئندہ بھی قریبی رابطے میں رہنے اور مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے وزیرِاعظم سے اہم ملاقات کی جس میں اسحاق ڈار، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک اور معاونِ خصوصی طارق فاطمی بھی شریک تھے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ وزیرِاعظم نے سعودی وزیر خارجہ کو پاکستان کی طرف سے سعودی عرب کیساتھ مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان ہر مشکل وقت میں سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ اْنہوں نے موجودہ بحران میں سعودی قیادت کے تحمل کو سراہا۔ شہباز شریف نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے فروغ کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں سے سعودی وزیرِ خارجہ کو آگاہ کیا اور مسلم اْمہ میں سعودی عرب کے قائدانہ کردار پر زور دیتے ہوئے اِس نازک وقت میں اسلامی ممالک کے اتحاد کی ضرورت کو اْجاگر کیا۔ سعودی وزیرِ خارجہ خطے کی موجودہ صورتحال پر سعودی عرب کے مؤقف سے آگاہ کیا۔ دونوں ممالک نے خطے میں اَمن اور استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے اور قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔ شہباز شریف سے ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے بھی ملاقاتیں کیں جن میں مہمان وزرائے خارجہ کو پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں سے آگاہ کرتے ہوئے زور دیا گیا کہ ایران سمیت خطے کے مختلف مسلم ممالک میں بڑھتی کشیدگی کے خاتمے کے لیے اجتماعی اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں`دوسری جانب دنیا بھر کی طرف سے عوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ امریکہ کی 50 ریاستوں میں ایران جنگ اور ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف”نو کنگ“ کے عنوان سے ریلیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق مختلف ریاستوں میں تین ہزار سے زائد احتجاجی مظاہرے ہوئے اور ریلیاں نکالی گئیں مظاہرین نے ایران جنگ اور صدر ٹرمپ کی غلط پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا کہ امریکی صدر پوری دنیا کو بحران سے دوچار کر رہے ہیں، امریکی اپنے ملک میں آمریت نہیں چاہتے، ایک شخص نے ملک کے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے، امریکی تاریخ میں پہلے کبھی کسی نے طاقت کا اتنا غلط استعمال نہیں کیا۔ عراق جنگ پر امریکیوں سے جھوٹ بولا گیا اور آج ایران کے خلاف جنگ پر ہم سے جھوٹ بولا جارہا ہے۔ ایران کے خلاف جنگ اسرائیلی وزیراعظم کے ایماء پر شروع کی گئی، ایک خودمختار ملک کے خلاف بلا جواز جنگ شروع کرکے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی جارہی ہے` اِس جنگ میں ایران نے دنیا کی سْپر پاور کا ایک ماہ سے زائد عرصے تک جی داری سے مقابلہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف داخلی سطح پر بلکہ دنیا بھر سے امریکہ پر اِس جنگ کے خاتمے کا پریشر بڑھ رہا ہے، یورپ نے بھی امریکہ کا ساتھ نہیں دیا اور ”نو کنگ“ مظاہرے اور ریلیاں اِس بات کا اشارہ ہیں کہ عوام اِس جنگ کو اور امریکی صدر کو”ایک بادشاہ“ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ پاکستان یہ جنگ بند کرانے کے لیے دن رات کوشاں ہے، وہ تمام متعلقہ ممالک سے رابطے میں ہے، اِس کی کوشش ہے کہ امریکہ اور ایران مذاکرات جلد از جلد پاکستان میں شروع کرائے جا سکیں تاکہ خطے میں اَمن قائم ہو اور دنیا سکھ کا سانس لے۔ اِس جنگ نے نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، توانائی کی قِلت کے باعث مستقبل میں کئی بحرانوں کے خدشات سر پر منڈلا رہے ہیں، بین الاقوامی ماہرین معیشت کے مطابق یہ جنگ جلد بند نہ ہوئی تو دنیا کی بعض معیشتیں دیوالیہ پن تک بھی پہنچ سکتی ہیں، یورپ میں گیس اور تیل کی قلت بہت سے معاشی مسائل پیدا کر سکتی ہے، خود امریکہ میں معاشی بحران جنم لے رہا ہے۔ دنیا بھر میں اسِ وقت ممکنہ کساد بازاری پر بات کی جا رہی ہے۔ اسرائیل کے ایماء پر امریکہ کی طرف سے شروع کی گئی اِس جنگ کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ مسلمان ممالک کو مضبوط اتحاد قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے، وقت آن پہنچا ہے کہ تمام اسلامی ممالک ’بنیان مرصوص‘ کی مانند جْڑ جائیں