تحریر: افتخار چودھری
تاریخِ عالم گواہ ہے کہ جب بھی معاشروں میں حق و باطل کا معرکہ برپا ہوا، تو کچھ کردار ایسے ابھرے جنہوں نے اپنے خونِ جگر سے استقامت کی نئی داستانیں رقم کیں۔ سیاست کے خارزار میں جہاں قدم قدم پر مصلحتیں پاؤں کی زنجیر بنتی ہیں، وہاں کچھ نفوسِ قدسیہ ایسے بھی ہوتے ہیں جو جبر کی تپتی دھوپ میں شجرِ سایہ دار کی طرح ڈٹے رہتے ہیں۔ آج جب ہم پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر نگاہ ڈالتے ہیں، تو ایک ستر سالہ خاتون، ڈاکٹر یاسمین راشد، ایک ایسی ہی قد آور شخصیت کے طور پر سامنے آتی ہیں جنہیں دورِ حاضر کی ‘مادرِ ملت’ یا ‘فاطمہ جناح’ کہنا مبالغہ نہیں بلکہ وقت کی پکار اور سچائی کا اعتراف ہے۔
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر جب وہ یہ سوال کرتی ہیں کہ “مجھے حیرت ہے کہ بار بار دہشت گردی کی عدالت میں کیوں بلایا جاتا ہے؟ ایسا لگتا ہے جیسے میں ہی ملک کی سب سے بڑی دہشت گرد ہوں”، تو یہ الفاظ صرف ایک ملزمہ کا بیان نہیں رہتے، بلکہ یہ اس پورے نظامِ عدل کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ بن جاتے ہیں جو مسیحاؤں کو مجرم اور ظالموں کو منصف بنا کر پیش کرنے پر تلا ہوا ہے۔ ایک ایسی خاتون جس نے اپنی پوری زندگی طب کی تدریس اور انسانیت کی خدمت میں صرف کر دی، جس کے ہاتھوں نے ہزاروں زندگیوں کو موت کے منہ سے نکالا، اسے دہشت گردی کے مقدمات میں الجھانا دراصل ریاست کی اپنی اخلاقی شکست کا اعتراف ہے۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کی شخصیت اور ان کی جدوجہد کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس نظریاتی پس منظر کو دیکھنا ہوگا جو انہیں اس عمر میں بھی فولادی عزم عطا کرتا ہے۔ وہ کینسر جیسے جان لیوا مرض سے نبرد آزما ہونے کے باوجود جس طرح جیل کی کال کوٹھڑیوں اور عدالتوں کے چکروں کو خندہ پیشانی سے برداشت کر رہی ہیں، اس کی مثال عصری سیاست میں نہیں ملتی۔ ان کا یہ عزم دراصل اس فلسفے کی عکاسی کرتا ہے جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے صدیوں پہلے بیان فرمایا تھا۔ مولا علیؑ کا قولِ مبارک ہے:
“کفر کا نظام تو چل سکتا ہے، مگر ظلم کا نظام نہیں چل سکتا۔”
آج پاکستان میں جس طرح کے حالات ہیں، وہاں یہ قول ڈاکٹر صاحبہ کی جدوجہد پر صادق آتا ہے۔ وہ ایک ایسے نظام کے خلاف سینہ سپر ہیں جہاں انتقام کی آگ میں اندھا ہو کر بزرگ خواتین کی حرمت اور ان کے سماجی مرتبے کو بھی پامال کیا جا رہا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ “پہلے بھی مجھ پر 14 مقدمات بنائے گئے تھے جن میں کچھ ثابت نہ ہوسکا”، اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ حق کو دبانے کی کوششیں ہمیشہ سے ہوتی آئی ہیں، لیکن تاریخ کا پہیہ کبھی رکتا نہیں۔ جس طرح محترمہ فاطمہ جناح نے ایوبی آمریت کے سامنے حق کا علم بلند کیا تھا اور انہیں غداری کے القابات سے نوازا گیا، آج وہی تاریخ ڈاکٹر یاسمین راشد کے روپ میں خود کو دہرا رہی ہے۔ وہ آج کی فاطمہ جناح ہیں جو یہ پیغام دے رہی ہیں کہ لیڈر قید ہو سکتے ہیں، نظریات نہیں۔
ان کی گفتگو میں چھپا کرب دراصل اس بے بنیاد قانونی کارروائی پر ہے جس کی بنیاد صرف سیاسی وفاداری بدلنے سے انکار پر رکھی گئی ہے۔ “ابھی تک سمجھ نہیں آئی کہ کس بنیاد پر یہ مقدمات درج کیے گئے ہیں”، یہ جملہ اس قانونی خلا کی نشاندہی کرتا ہے جہاں انصاف کی جگہ انتقام نے لے لی ہے۔ لیکن وہ مایوس نہیں ہیں۔ ان کا ایمان ہے کہ “انشاءاللہ اب بھی اللہ خیر کرے گا اور حق کی جیت ہوگی”۔ یہ وہی یقینِ محکم ہے جو کسی بھی تحریک کی کامیابی کی ضمانت ہوتا ہے۔ ان کا کردار ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جب ضمیر بیدار ہو اور مقصد بلند ہو، تو پھر قید و بند کی صعوبتیں صرف درجۂ بلند کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔
ڈاکٹر یاسمین راشد محض ایک سیاسی کارکن نہیں ہیں، وہ ایک دانشور، ایک ماہرِ تعلیم اور ایک ایسی ماں ہیں جس نے اپنی پوری نسل کو شعور کی دولت سے مالا مال کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ عورت اگر عزم کر لے تو وہ وقت کے بڑے بڑے جابروں کے تخت ہلا سکتی ہے۔ ان کی مسکراہٹ میں وہ اعتماد ہے جو صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جو جانتے ہیں کہ وہ تاریخ کے درست رخ پر کھڑے ہیں۔ آج ان کے خلاف بنائے گئے مقدمات کی فائلیں شاید بہت وزنی ہوں، لیکن ان کا اخلاقی قد ان تمام فائلوں اور کٹہروں سے کہیں بلند ہے۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی شخصیات روز روز پیدا نہیں ہوتیں۔ وہ ایک علامت بن چکی ہیں—استقامت کی علامت، سچائی کی علامت اور اس بے لوث محبت کی علامت جو ایک مسیحا کو اپنے وطن کی مٹی اور اپنے عوام سے ہوتی ہے۔ وہ آج اس جبر کے خلاف وہ روشن چراغ ہیں جو طوفانوں میں بھی اپنی لو مدھم نہیں ہونے دیتا۔ ان کا بار بار عدالت بلایا جانا دراصل ان کی جیت ہے، کیونکہ ہر پیشی پر ان کا حوصلہ پہلے سے زیادہ توانا نظر آتا ہے۔
آخر میں، ہم اس عظیم خاتون کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جو کڑے وقت میں بھی چٹان کی طرح کھڑی ہے۔ دورِ حاضر کی یہ ‘مادرِ ملت’ ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ جب تک معاشرے میں ڈاکٹر یاسمین راشد جیسے لوگ موجود ہیں، تب تک حق کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ ان کی جدوجہد کا ثمر ضرور ملے گا، کیونکہ کفر کا نظام تو شاید کچھ دیر چل جائے، مگر ظلم اور ناانصافی کی یہ دیواریں جلد یا بدیر گر کر رہیں گی۔ ان کی ہمت اور بہادری کو سلام، جنہوں نے ثابت کیا کہ حق کی راہ میں بڑھنے والا قدم کبھی پیچھے نہیں ہٹتا۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحتِ کاملہ عطا فرمائے اور انہیں اس کٹھن امتحان میں سرخرو کرے۔ آمین
