قوموں کا زوال—اپنے ہی ہاتھوں اپنی بربادی

قوموں کا زوال—اپنے ہی ہاتھوں اپنی بربادی
کیا،، پٹواریوں،، کا ہونا قوم کی تباہی کی علامت ہے؟

باعث افتخار انجنیئر افتخار چودھری

دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قومیں کسی ایک دن میں تباہ نہیں ہوتیں، نہ ہی کسی دشمن کے حملے سے ہمیشہ کے لیے مٹ جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قومیں آہستہ آہستہ اپنے ہی ہاتھوں اپنی بنیادیں کھوکھلی کرتی ہیں، اور پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ ایک معمولی سا جھٹکا بھی انہیں زمین بوس کر دیتا ہے۔ یہ زوال کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل عمل ہوتا ہے، جس میں اخلاقی، سماجی، سیاسی اور معاشی عوامل شامل ہوتے ہیں۔
اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ہمیں بڑی بڑی سلطنتیں نظر آتی ہیں جو کبھی دنیا پر حکمرانی کرتی تھیں، مگر آج ان کا نام و نشان صرف کتابوں میں باقی ہے۔ Roman Empire کی شان و شوکت ہو یا Ottoman Empire کی عظمت، ان سب کا انجام ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ طاقت اور اقتدار ہمیشہ قائم نہیں رہتے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو ایک مضبوط قوم کو کمزور اور پھر تباہ کر دیتے ہیں؟
سب سے پہلی اور بنیادی وجہ ناانصافی ہے۔ جب کسی معاشرے میں انصاف کا نظام کمزور پڑ جاتا ہے، اور قانون صرف کمزور کے لیے رہتا ہے جبکہ طاقتور ہر جرم کے باوجود آزاد گھومتے ہیں، تو عوام کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ انصاف کسی بھی ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے، اور جب یہی ہڈی ٹوٹ جائے تو پورا نظام زمین پر آ گرتا ہے۔ تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جب عدالتیں خاموش ہو جائیں اور حق کی آواز دب جائے، تو معاشرہ اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے۔
دوسری بڑی وجہ بدعنوانی (کرپشن) ہے۔ کرپشن ایک ایسا زہر ہے جو آہستہ آہستہ پورے نظام میں پھیلتا ہے۔ ابتدا میں یہ چند افراد تک محدود ہوتا ہے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ پورے اداروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ جب حکمران اپنے مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دینے لگیں، تو ترقی کا پہیہ رک جاتا ہے۔ عوام ٹیکس دیتے ہیں مگر سہولیات نہیں ملتیں، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ریاست اور عوام کے درمیان فاصلہ بڑھ جاتا ہے۔
تیسرا اہم عنصر جہالت ہے۔ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب قوم علم سے دور ہو جائے، تحقیق کا عمل رک جائے اور نوجوانوں کو صحیح سمت نہ ملے، تو وہ قوم دوسروں کی محتاج بن جاتی ہے۔ جہالت صرف کتابوں سے دوری کا نام نہیں، بلکہ یہ سوچ کی پسماندگی بھی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ قوم ہی صحیح اور غلط میں فرق کر سکتی ہے اور اپنے مستقبل کے لیے بہتر فیصلے لے سکتی ہے۔
چوتھی وجہ اتحاد کا فقدان ہے۔ جب ایک قوم لسانی، نسلی، یا فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم ہو جائے، تو اس کی طاقت کمزور پڑ جاتی ہے۔ دشمن کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں رہتی، کیونکہ قوم خود ہی ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہو جاتی ہے۔ اتحاد وہ طاقت ہے جو کمزور کو مضبوط بناتی ہے، اور اس کی کمی مضبوط کو کمزور کر دیتی ہے۔
پانچواں عنصر اخلاقی زوال ہے۔ جب معاشرے میں سچ کی جگہ جھوٹ، دیانت کی جگہ بددیانتی، اور خدمت کی جگہ خودغرضی لے لے، تو وہ معاشرہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ اخلاقی اقدار کسی بھی قوم کی روح ہوتی ہیں، اور جب روح کمزور ہو جائے تو جسم بھی زیادہ دیر زندہ نہیں رہتا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ترقی صرف سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں ہوتی، بلکہ کردار کی مضبوطی سے ہوتی ہے۔
چھٹی اور نہایت اہم وجہ کمزور قیادت ہے۔ ایک اچھی قیادت قوم کو بلندیوں تک لے جا سکتی ہے، جبکہ ایک نااہل قیادت اسے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیتی ہے۔ خاص طور پر پاکستانی قوم کے زوال میں ایسے حکمرانوں کا کردار نمایاں ہے جو نہ پڑھے لکھے ہیں اور نہ پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں، جیسا کہ Imran Khan نے بھی بیان کیا تھا۔ جب لیڈر صرف اپنی کرسی بچانے میں مصروف ہوں، عوامی مسائل کو نظر انداز کریں اور فیصلے ذاتی مفادات کی بنیاد پر کریں، تو قوم کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔ قیادت وہ چراغ ہے جو راستہ دکھاتی ہے، اور اگر یہی چراغ بجھ جائے تو اندھیرا ہی اندھیرا رہ جاتا ہے۔
اگر ہم اپنے اردگرد نظر ڈالیں تو ہمیں یہ تمام عوامل کسی نہ کسی شکل میں موجود نظر آتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب قوموں کو جاگ جانا چاہیے، کیونکہ زوال کی ابتدا خاموشی سے ہوتی ہے مگر اس کا انجام بہت شور سے ہوتا ہے۔ تاریخ کبھی بھی ان قوموں کو معاف نہیں کرتی جو اپنے مسائل کو نظر انداز کرتی ہیں۔
لیکن یہاں ایک امید کی کرن بھی موجود ہے۔ جس طرح زوال ایک عمل ہے، اسی طرح عروج بھی ایک عمل ہے۔ اگر ایک قوم ان برائیوں سے بچنے کا فیصلہ کر لے، انصاف کو مضبوط کرے، تعلیم کو فروغ دے، اتحاد کو برقرار رکھے اور دیانتدار قیادت کو منتخب کرے، تو وہ دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکتی ہے۔ دنیا میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں قوموں نے اپنے حالات بدل کر ترقی کی راہ اختیار کی۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ کسی بھی قوم کو تباہ کرنے کے لیے باہر کے دشمنوں کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ اس کے اپنے اعمال ہی کافی ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنی کمزوریوں کو پہچان لیں اور انہیں دور کرنے کی کوشش کریں، تو ہم نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کو بھی ایک بہتر مستقبل دے سکتے ہیں۔
قوموں کا زوال ایک سبق ہے، اور جو قومیں اس سبق کو سمجھ لیتی ہیں، وہ کبھی تباہ نہیں ہوتیں